Updated: January 08, 2026, 4:10 PM IST
| New Delhi
سینئر سوشلسٹ لیڈر اور معروف گاندھیائی تیج لال بھارتی نے دہلی کے مسلمانوں سے، بالخصوص دریا گنج میں واقع تاریخی ’’بچوں کا گھر‘‘ کو دوبارہ فعال بنانے کیلئے عملی کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ ادارہ حکیم اجمل خان کی یادگار اور ایک قومی اثاثہ قرار دیا جا تا ہے۔
نئی دہلی میں سینئر سوشلسٹ لیڈر اور ممتاز گاندھیائی تیج لال بھارتی نے دہلی کے مسلمانوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ دریا گنج میں واقع تاریخی ’’بچوں کا گھر‘‘ (یتیم خانہ) کی بحالی اور ازسرِنو فعالیت کیلئے آگے آئیں۔ یہ ادارہ عظیم قومی رہنما حکیم اجمل خان سے منسلک ایک اہم یادگار ہے، جسے بھارتی نے ملک اور برادری دونوں کیلئے قیمتی اثاثہ قرار دیا ہے۔ کلیریئن انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تیج لال بھارتی، جو حکیم اجمل خان فورم برائے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے صدر اور آریہ سماج اناتالیہ اور بچوں کا گھر (دریا گنج) کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ ’’بچوں کا گھر‘‘ کو طویل عرصے سے ایک مؤثر انتظامی کمیٹی کی عدم موجودگی کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث ادارہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر سکا۔انہوں نے کہا کہ ’’بچوں کا گھر‘‘ صرف حکیم اجمل خان کی یادگار نہیں بلکہ ایک قومی اثاثہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ برسوں تک مناسب انتظامی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ اپنے اصل مقصد سے پیچھے رہ گیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اُترپردیش کے ایس آئی آر میں ہر پانچ میں سے ایک ووٹر خارج
تیج لال بھارتی نے خاص طور پر دارالحکومت کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ رکنیت کے ذریعے انتظامیہ کی تشکیلِ نو میں حصہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ خلوصِ نیت کے ساتھ آگے آئیں تو یہ ادارہ غریب، بے سہارا اور یتیم بچوں کیلئے ایک مضبوط سہارا بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کی تعلیم اور بنیادی تربیت کیلئے یہاں پہلے سے کچھ انتظامات موجود ہیں، تاہم ادارے کو مکمل طور پر فعال بنانے کیلئے وسیع عوامی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’یہ گھر ان بچوں کیلئے قائم کیا گیا تھا جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ اس اصل مقصد کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر ہدایت اللہ پٹیل پر چاقو حملہ، علاج کے دوران انتقال
حکیم اجمل خان کی میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارتی نے کہا کہ دہلی نے ان جیسے ہمہ جہت رہنما کم ہی دیکھے ہیں۔ ان کے مطابق حکیم اجمل خان نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم برادریوں کیلئے بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جس کے باعث وہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور قومی اتحاد کی ایک مضبوط آواز سمجھے جاتے تھے۔ تیج لال بھارتی نے کہا کہ حکیم اجمل خان کو یاد رکھنا صرف تقاریب یا خطابات تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ان سے وابستہ اداروں، جیسے بچوں کا گھر، کی دیکھ بھال اور بحالی ہی ان کی زندگی اور خدمات کو حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔‘‘ سماجی حلقوں نے اس اپیل کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں، جب کئی فلاحی ادارے مشکلات کا شکار ہیں، اس طرح کی اجتماعی کوشش نہ صرف یتیم بچوں کے مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ مشترکہ قومی ورثے کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس اپیل کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بچوں کا گھر جلد ہی اپنے اصل مشن، معاشرے کے سب سے کمزور بچوں کی نگہداشت، کی طرف لوٹ آئے گا۔