• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی: چاؤڑی بازار میں دردناک حادثہ، زیر تعمیر عمارت منہدم ،۲؍ افراد کی موت

Updated: November 06, 2026, 11:39 AM IST | Agency | New Delhi

پرانی دہلی کے تاریخی اور گنجان آباد علاقے چاوڑی بازار میں جمعرات کی صبح ایک دلدوز حادثہ پیش آیا جہاں ایک زیرِ تعمیر تین منزلہ عمارت اچانک زمیں بوس ہو گئی۔

NDRF and fire brigade personnel during a rescue operation. Photo: INN
این ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کے اہلکار ریسکیو آپریشن کے دوران۔ تصویر: آئی این این

پرانی دہلی کے تاریخی اور گنجان آباد علاقے چاوڑی بازار میں جمعرات کی صبح ایک دلدوز حادثہ پیش آیا جہاں ایک زیرِ تعمیر تین منزلہ عمارت اچانک زمیں بوس ہو گئی۔ حادثے کے نتیجے میں اب تک دو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملبے کے نیچے کم از کم۱۵؍ افراد اب بھی دبے ہوئے ہیں۔خبر لکھے جانے تک امدادی اور راحتی کارروائیاں جاری تھیںجبکہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا بھی جائے حادثہ پرپہنچ چکی تھیں۔دہلی پولیس نے حادثہ میں۲؍افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔دہلی فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق اسے زیر تعمیر عمارت کا ایک حصہ گرنے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد موقع پر فائر بریگیڈ کی۶؍گاڑیاں بھیجی گئیں۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور بچاؤ آپریشن شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق عمارت میں کام چل رہا تھا کہ اچانک تقریباً۱۰؍ بجے یہ منہدم ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں، ٹریفک بحال

اس حادثے کی خبر ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ’’چاؤڑی بازار اور چاندنی چوک میں مزید ایک۳؍ منزلہ عمارت گر گئی ہے اور ملبے میں کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘ سوربھ بھاردواج نے دہلی کی ریکھا گپتا حکومت اور ایم سی ڈی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دونوں نے دہلی کی عمارتوں کا کئی بار حفاظتی آڈٹ کرایا ہے، اس کے باوجود عمارتیں گر رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حفاظتی آڈٹ کے احکامات تو بار بار دیے گئے، لیکن کارروائی کرنے کے بجائے کئی محکموں نے بار بار رشوت وصول کی۔سوربھ بھاردواج نے دعویٰ کیا کہ پہلے صرف دہلی پولیس اور ایم سی ڈی پر رشوت لینے کے الزامات لگتے تھے لیکن ریکھا گپتا حکومت کے آنے کے بعد فائر ڈپارٹمنٹ اور محکمہ مال کے ایس ڈی ایم بھی عمارتوں سے رشوت لینے لگے ہیں۔ بھاردواج نے الزام لگایا کہ جو لوگ رشوت دینے سے انکار کرتے ہیں، ایم سی ڈی ان کی عمارتوں کو سیل کر دیتی ہے۔ انہوں نے گریٹر کیلاش۲؍مارکیٹ میں دوجم سیل کیے جانے کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جنوبی دہلی کے اسی زون میں دوسرے جِم اور تجارتی عمارتیں کیوں کھلی ہوئی ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے اسے چنندہ کارروائی قرار دیتے ہوئے حکومت اور متعلقہ محکموں کی جواب دہی پر سوال اٹھائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK