Inquilab Logo Happiest Places to Work

نومبر ۲۰۱۶ء سے قبل کی عمارتوں کو ’او سی‘ دینے کے منصوبے میں تبدیلیوں کا مطالبہ

Updated: April 09, 2026, 12:00 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

منظوری کیلئے بی ایم سی میں اس پر بحث ٹل گئی۔ میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کےچیئرمین کےمطابق معافی کی اسکیم کو عوام کیلئے مزید آسان بنایا جائے گا۔

Mumbai Local Area.Photo;INN
ممبئی کا مقامی علاقہ۔ تصویر:آئی این این
 شہرومضافات میں برسوں سے بغیر ’اوکیوپیشن سرٹیفکیٹ(او سی)‘ کی عمارتوں میں رہنے والوں کیلئے راحت دینے کیلئے بی ایم سی نے ایسی عمارتوں کو معافی کی اسکیم کے تحت ’او سی‘ دینے کا فیصلہ کیا ہے جو عمارتیں ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۶ء سے قبل تعمیر ہوگئی تھیں اور لوگ ان میں رہنے لگے تھے۔ منظوری کیلئے بدھ کو بی ایم سی کی ’اسٹینڈنگ کمیٹی‘ کی میٹنگ میں اس پر بحث ہونی تھی لیکن کمیٹی کےچیئرمین پربھاکر شندے نے اس پر مباحثہ کو ٹال دیا۔ 
اگرچہ بی ایم سی میں حکمراں محاذ اور اپوزیشن پارٹیوں کے کئی لیڈروں نے کہا کہ وہ اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن اس موضوع کو بحث میں شامل نہیں کیا گیا۔
میٹنگ کے بعد صحافیوں کے استفسار پر پربھاکر شندے نے کہا ہے کہ اس اسکیم میں وہ کچھ تبدیلیاں چاہتے ہیں جس کیلئے انہوں نے میونسپل کمشنر سے ملاقات بھی کی تھی ،اس کے باوجود یہ موضوع بغیر کسی تبدیلی کے فہرست میں شامل کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اس پر مباحثہ کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ضروری تبدیلیوں کے ساتھ اسے دوبارہ میٹنگ میں بحث کیلئے لایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اسکیم میں معافی کیلئے ۸۰۰ ؍مربع فٹ کارپیٹ ایریا کی شرط رکھی گئی ہے جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ شرط ختم کردی جائے اور سب کو اس کا فائدہ ملے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی بلڈر اگر عمارت کی تعمیر میں قواعد کی پاسداری نہیں کرتا  یا دیگر کسی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس میں خریدار کی کیا غلطی ہے، اسے کیوں سزا ملے۔ ان کے مطابق حکومت کو ٹیکس ادا کرنے والے عام شہریوں کو راحت دینی چاہئے اور ان باتوں کا خیال رکھتے ہوئے ضروری تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شہر و مضافات میں ایسی ہزاروں عمارتیں ہیں جو نہ صرف بن کر تیار ہیں بلکہ ان میں لوگ برسوں سے رہائش پزیر بھی ہیں لیکن مختلف وجوہات کی وجہ سے ان عمارتوں کو رہنے کے قابل قرار دینے والا شہری انتظامیہ کا لازمی ’اوکیوپیشن سرٹیفکیٹ(اوسی )‘ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ جن وجوہات کی بنا پر ’اوسی‘ جاری نہیں کیا گیا ہے، ان میں بلڈنگ کو بی ایم سی میں جمع کرائے گئے پلان کے مطابق نہ بنانا یا غیر قانونی طور پر اجازت سے زیادہ بڑی عمارت تعمیر کردینا وغیرہ شامل ہے۔ جن عمارتوں کو اوکیوپیشن سرٹیفکیٹ (او سی ) نہیں دیا جاتا اور لوگ ان میں رہنے لگتے ہیں، ان بلڈنگوں میں بی ایم سی انسانیت کی بنیاد پر پانی کا کنکشن تو دے دیتی ہے لیکن ان سے پانی کا معمول سے کہیں زیادہ چارج وصول کیا جاتا ہے۔ بغیر او سی والی عمارتوں میں رہنے والوں کو مختلف قسم کی مالی اور قانونی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے بنانے والے بلڈر اس پروجیکٹ سے علاحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ 
 
 
جو ’ایمنسٹی اسکیم(معافی کی اسکیم)‘ متعارف کروائی جارہی ہے، اس کے تحت بی ایم سی کا ’بلڈنگ پرپوزل اینڈ ڈیولپمنٹ پلاننگ ڈپارٹمنٹ‘ رہائشی عمارتوں، اسپتالوں اور اسکولوں کو او سی جاری کرے گا۔ تاہم اس اسکیم سے انہی عمارتوں کو فائدہ ملے گا جو نومبر ۲۰۱۶ء کے ’کٹ آف‘ تاریخ سے پہلے سے استعمال میں ہیں۔ ۸۰۰؍ مربع فٹ تک کے ’کارپیٹ ایریا‘ والے رہائشی مکانات کو اس اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔اس اسکیم کے تحت مختلف قسم کی فیس میں ۵۰؍ فیصد تک رعایت دی جائے گی جن میں جرمانہ، درخواست اور ریگولرائزیشن فیس شامل ہیں۔ اس اسکیم کے شروع ہونے کے ۶؍ مہینوں میں جن عمارتوں کیلئے درخواست دی جائیں گی، ان پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ البتہ جن عمارتوں کیلئے ۶؍ مہینے کے بعد درخواست دی جائیں گی، ان پر جرمانہ میں رعایت دی جائے گی۔
 
 
اس اسکیم کے تعلق سے شہری انتظامیہ کے افسران نے بامبے ہائی کورٹ میں یہ وضاحت کی تھی کہ ان کا ارادہ غیرقانونی عمارتوں کو قانونی حیثیت دینا نہیں ہے اس لئے غیرقانونی عمارتوں کو اس اسکیم کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ اس دوران ’اَربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ‘ نے معافی کی اسکیم کیلئے اہلِ قرار پانے والی عمارتوں کی آخری تاریخ ۲۵؍ مارچ ۱۹۹۱ء سے بڑھا کر ۶؍ جنوری ۲۰۱۲ء کردی تھی۔ بعد ازیں اس میں مزید توسیع کرکے یہ شرط عائد کی گئی کہ جو عمارتیں نومبر ۲۰۱۶ء، یعنی ’فنجیبل ایف ایس آئی‘ کے نفاذ، سے پہلے آباد ہوئی ہیں انہیں بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK