کرلا راجیو گاندھی نگرسے ٹرامبے ریلوے لائن کے درمیان ۳۷۰۰؍ جھوپڑوں کو توڑنے کا فیصلہ ۔ ریلوے نے نوٹس جاری کیا
کرلا میں ریلوے پٹری کے قریب جھوپڑے نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
کرلا راجیو گاندھی نگر سے مانخورد ریلوے پٹری سے متصل جھوپڑوں کو منہدم کرنے کے لئے عدالت کے حکم کا حوالہ دے کرریلوے انتظامیہ کی جانب سے مکینوں کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔اس کی وجہ سے مکینوں میں عدم اطمینان پایاجارہا ہے اورانہیںبے گھر ہونے کااندیشہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ اب تک اس علاقے کے مکینوں اور متاثرہونے والے خاندانوں کا مکمل سروے نہیں کیا گیا ہےجبکہ ان کی بازآبادکاری کے تعلق سے ہائی کورٹ کا حکم موجود ہے۔اس وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں راجیو گاندھی نگر کے مکینوں کو بھی باندرہ کے غریب نگر کے متاثرین جیسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے جہاں انہدامی کارروائی کے نتیجے میں اب بھی سیکڑوں خاندان انصاف کیلئے کوشاں ہیں۔
سینٹرل ریلوے کی نوٹس میںکیاکہا گیا؟
سینٹرل ریلوے کی جانب سے مکینوں کو جاری کردہ نوٹس میںرٹ پٹیشن نمبر ۳۳۸۶؍۲۰۲۳کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہےکہ کلومیٹر نمبر ۱۵؍۶۰۰ سے کلومیٹر نمبر ۲۲؍۴۰۰؍ تک کرلا سے ٹرامبے ریل لائن تک دونوں جانب ریلوے علاقے میں واقع سبھی جھوپڑاواسیوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس نوٹس کے جاری ہونے یعنی ۱۵؍ اکتوبر سے ۳۰؍ دن کے اندر اپنا مکان خالی کردیں۔ اس کے بعد ریلوے انتظامیہ کو طاقت کے بَل پر جگہ خالی کرانے کا حکم ہے ۔ نوٹس میںآگے لکھا گیاہےکہ عدالت کےحکم کے مطابق مکان خالی کرنے کے بعد ۶؍ماہ تک مکینوں کو ماہانہ ۲؍ہزار روپے کرایہ دیا جائے گا۔اس کے لئے انہیں بینک کھاتے کی جانکاری دینی ہوگی۔
مزید معلومات کیلئے وسیع الحسن (سینئر سیکشن انجینئر،واڑی بندر) اورگوپال کمار (جونیئر انجینئر، ٹرامبے ) سے ۷؍دن کے اندر رابطہ قائم کریں ۔
مکین کیاکاغذات اور کہاںجمع کرائیں؟
جونیئر انجینئر گوپال کمار سے رابطہ قائم کرنے اوریہ معلوم کرنے پرکہ متاثرین کون سے کاغذات لے کر کہاں جائیں تو انہوںنے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ ’’اُن کے دفتر ایس ایس ای (پی ڈبلیو اے آئی ) ڈبلیو بی ،پی ڈبلیوآئی آفس ،سینٹرل ریلوےٹرامبے یارڈ ،واشی ناکہ چمبور، اپوزٹ ایچ پی پیٹرول پمپ ممبئی ۷۴؍ میں رابطہ قائم کریں۔ مکین اپنے ساتھ ۲۰۲۲ء میں دی گئی نوٹس کی کاپی اوراپنے بینک کے کھاتے کی تفصیل بھی ساتھ لائیں۔