دعویٰ کیا کہ ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھی احتجاج ختم کرنا چاہتے تھے۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 11:08 AM IST | Agency | Mumbai
دعویٰ کیا کہ ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھی احتجاج ختم کرنا چاہتے تھے۔
ایک سائنس داں کے طور پر مشہور، ماحولیات کے تحفظ کیلئے جدو جہد کرنے والے اور کئی گرانقدر انعام پانے والے سونم وانگ چک، جنہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر احتجاج کو اپنی شرکت اور بھوک ہڑتال کے ذریعہ اعتبار بخشا، اچانک بدلے ہوئے لہجے میں بول رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستانیوں کی خوراک میں کمی، لوگ سستی اور کم غذائیت والی اشیاء کھا رہے ہیں
انہوں نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ سی جے پی کے منتظمین اور کلیدی مظاہرین کا حوصلہ ۲۰؍جولائی کے پہلے ہی ٹوٹنے لگا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ احتجاج کسی بہانے ختم ہوجائے۔ اس کے بعد جب پولیس نے جنتر منتر پر دھاوا بولا اور اسٹیج ہٹا دیا گیا تب انہوں نے وانگ چک سے درخواست کی تھی کہ وہ ایسا پیغام تیار کریں جو مظاہرین تک پہنچایا جائے اور جس میں احتجاج ختم کرکے اپنے گھروں کو لوٹنے کی اپیل کی جائے۔ بقول وانگ چک سی جے پی لیڈرشپ نے ان سے کہا تھا کہ وہ مظاہرین سے کہیں کہ بہت لوگ جا چکے، ہمارا اسٹیج بھی ٹوٹ گیا ہے اور اب کوئی امید نہیں رہ گئی ہے۔ وانگ چک کا کہنا ہے کہ سی جے پی کی قیادت مجھ سے کہلوانا چاہتی تھی اب مظاہرین کو اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہئے۔ آپ لوگ جائیں، بہت تھک گئے ہیں، آرام کریں، اب کل دیکھا جائیگا کہ کیا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کیخلاف ایف آئی آر پر کانگریس سخت برہم، ملک گیر مظاہرہ
لیکن، وانگ چک کے مطابق دوسرے دن بڑی تعداد میں نوجوان مظاہرین جنتر منتر پر آگئے جس سے سی جے پی کی لیڈرشپ کا حوصلہ بحال ہوا۔یہ کہتے ہوئے کہ’’نوجوانوں نے جو کچھ کیا وہ غیر معمولی تھا‘‘ وانگ چک نے ستائش کی اور کہا کہ ایک دن پہلے لاٹھیاں چلیں مگر وہ واپس آئے (ڈرے نہیں)۔ وانگ چک نے یہ تفصیل پی جی ایکس پوڈ کاسٹ میں پرکھر گپتا سے بات چیت کے دوران فراہم کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب سی جے پی لیڈر اپوزیشن بالخصوص راہل گاندھی کی مداخلت کے ذریعہ بھوک ہڑتال ختم کروانا چاہتے تھے مگر راہل کی ٹیم کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ سونم کے بقول ان کی خواہش تھی کہ راہل گاندھی کے ہاتھوں جوس پی کر وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرتے۔