Inquilab Logo Happiest Places to Work

احتجاج کرنے والے طلبہ کوہرقسم کی کارروائی سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ

Updated: July 29, 2026, 10:56 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

میڈیا، حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی جواہد ہی کے حوالے سے’یونائٹیڈ اگینسٹ اِن جسٹس اینڈ ڈسکریمنیشن‘ اور’بامبے کیتھولک سبھا‘ کے اشتراک سے پریس کلب میں پریس کانفرنس۔

Dr. Salim Khan, Maulana Zaheer Abbas Rizvi, Shakir Sheikh, Advocate Suresh Mane, Advocate Larajsani, Dolphy D`Souza, Aamir Qazi and Owais Siddiqui at the Press Club. Photo: INN
پریس کلب میںڈاکٹرسلیم خان ، مولانا ظہیرعباس رضوی ، شاکرشیخ ، ایڈوکیٹ سریش مانے، ایڈوکیٹ لاراجسانی ، ڈولفی ڈیسوزا ، عامر قاضی اور اویس صدیقی۔ تصویر: آئی این این

پیپر لیٖک کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کے تناظر میں میڈیا، حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی جواہد ہی کے حوالے سے پریس کلب میںمنگل کو یونائٹیڈ اگینسٹ اِن جسٹس اینڈ ڈسکریمنیشن اوربامبے کیتھولک سبھا کے اشتراک سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں  فوری اور موثر جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا۔

کانفرنس میں مقررین نے جنتر منتر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں پر ُامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کے وحشیانہ لاٹھی چارج اور طاقت کے بے جا استعمال کی شدید مذمت کی ساتھ ہی طلبہ پر محض اپنے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں ایف آئی آر درج کرنے اور انہیں مجرم قرار دینے کو اختیارات کا انتہائی خطر ناک استعمال قرار دیا۔  یہ مطالبہ بھی کیاگیا کہ گرفتارشدہ تمام طلبہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں ہر قسم کی کارروائی سے محفوظ رکھا جائے۔  مقررین نے حکومت سے یہ بھی کہاکہ وہ نوجوان نسل کی آواز دبانے کے بجائے ان کے عزم کی قدر کرے، اختلاف رائے کو سنے اور طلبہ کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ اسی طرح ریاستی حکومتوں بالخصوص حکومت مہاراشٹر سے کہا گیا کیا کہ طلبہ اور نوجوان کارکنان کے خلاف درج تمام ایف آئی آر، مقدمات اور قانونی کارروائیاں غیر مشروط طور پر واپس لی جائیں جیسا کہ بہار اور آسام کی حکومتیں ۲۶؍جولائی ۲۰۲۶ء تک طلبہ احتجاج سے متعلق تمام ایف آئی آر واپس لینے کی ہدایات جاری کرچکی ہیں۔ تاہم حکومت مہاراشٹر کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ حکم نامہ جاری نہیں کیا گیاہے۔

یہ بھی پڑھئے: مارشل آرٹ کےعالمی مقابلہ میں ممبرا کے ۸؍ فائٹروں کی شاندارکامیابی

اہم نکات اورمطالبات

پورا امتحانی نظام بنیادی طور پر متاثر ہو چکا ہے۔ اس میں فوری ، جامع اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ نیٹ کے بنیادی تصور پر از سر نو غور کیا جائے، امتحانی نظام میں شفاف نگرانی کا موثر نظام قائم کیا جائے، بد عنوان امتحانی ٹھیکیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔

پیپر لیٖک مافیا کی آزاد عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں، پولیس کی من مانی کار روائیاں بند کی جائیں۔

میڈیا نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو سنجیدگی سے اجاگر کرے اور عدلیہ از خود نوٹس لے کر پولیس تشدد اور ادارہ جاتی بد عنوانی کے خلاف موثر کارروائی کرے۔آئین ہند کے تحت ہر شہری، بشمول طلبہ کو پرامن احتجاج، آزادی اظہار اور اپنے حقوق کے تحفظ کا بنیادی حق حاصل ہے، لہٰذا تمام مقدمات فوری واپس لئے جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا میں دوسری منزلہ کی چالی کا حصہ پہلے منزلہ پر گرا، ۱۵؍سالہ لڑکی کی موت

بعض مرکزی میڈیا اداروں نے طلبہ کے احتجاج کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے بجائے نوجوانوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ 

خود کشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ اور لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والے طلبہ کو مناسب مالی معاوضہ دیا جائے۔ 

پریس کانفرنس سے ایڈوکیٹ لارا جسانی، ڈولفی ڈیسوزا، ڈاکٹر سلیم خان ، مولانا ظہیرعباس رضوی، ایڈوکیٹ سریش مانے، عامر قاضی، اویس صدیقی اور شاکرشیخ نےاظہارخیال کیا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK