Updated: October 27, 2026, 9:02 PM IST
| Washington
ڈیموکریٹس کے ذریعے جاری کردہ رپورٹ میں سابق مِس سوئٹزرلینڈ بیٹرس کیول کا ٹرمپ کے خلاف ایک نیا الزام بھی شامل ہے۔ اس میں چار دیگر خواتین کے الزامات بھی یکجا کئے گئے ہیں جنہوں نے ایپسٹین سے تعلق کے تناظر میں ٹرمپ پر ریپ یا جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اور ایپسٹین نے پلازہ ہوٹل کے ایک مقابلہ حسن کو کمزور خواتین کو نشانہ بنانے کیلئے ”شکار گاہ“ کے طور پر استعمال کیا۔
امریکی ایوان کی عدالتی کمیٹی میں شامل ڈیموکریٹ اراکین نے پیر کے روز عملے کے ذریعے تیار کردہ ۵۰ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ”ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمے اور اسے چھپانے کی محکمہ انصاف کی مایوس کن کوششوں“ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے صدر، اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کے مبینہ مفادات کے تصادم اور شواہد سے متعلق محکمہ انصاف کے طور طریقوں کی تحقیقات کرنے کیلئے ایک آزاد اسپیشل کونسل کے تقرر کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نمائندے جیمی راسکن نے کہا کہ ”ایپسٹین کے مظالم سے بچ جانے والی خواتین اس کی مستحق ہیں کہ ان کی بات سنی جائے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کو ایپسٹین سے جڑی تمام فائلیں ملنی چاہئیں اور ایک آزاد کونسل کو ایپسٹین کے شریکِ جرم افراد اور محکمہ انصاف کی جانب سے معاملے پر مبینہ پردہ پوشی کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام نہ ملنے پرٹرمپ کا ناروے کے تعلق سے انتہائی نازیبا تبصرہ
ٹرمپ کے خلاف ریپ کا نیا الزام
ڈیموکریٹس کے ذریعے جاری کردہ رپورٹ میں سابق مِس سوئٹزرلینڈ بیٹرس کیول کا ٹرمپ کے خلاف ایک نیا الزام بھی شامل ہے۔ کیول نے کمیٹی کے عملے کو بتایا کہ ٹرمپ نے ۱۹۹۳ء میں پلازہ ہوٹل میں ان کا بے رحمی کے ساتھ ریپ کیا تھا، جب ان کی عمر ۲۴ سال تھی۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے مبینہ طور پر کیول کو پیچھے سے دبوچا اور ان کا لباس پھاڑ دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کو ”وحشیانہ حملے“ کی وجہ سے ان کے جسم سے خون بہنے لگا تھا اور جسم پر نیل پڑ گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین نے خود کو ”ڈان کے سب سے اچھا دوست“ کے طور پر متعارف کراتے ہوئے اسی دن اس سے قبل کیول سے رابطہ کیا تھا اور انہیں مار-اے-لاگو کی ایک پارٹی میں مدعو کیا تھا۔ کیول نے اس سے قبل عوامی سطح پر ۱۹۹۳ء کے واقعے کو ریپ کے بجائے نامناسب طور پر چھونے (groping) کے طور پر بیان کیا تھا؛ رپورٹ میں ان کے بیان میں اس تبدیلی کی کوئی وضاحت نہیں پیش کی گئی ہے۔ اس دستاویز میں چار دیگر خواتین کے الزامات بھی یکجا کئے گئے ہیں جنہوں نے ایپسٹین سے تعلق کے تناظر میں ٹرمپ پر ریپ یا جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اور ایپسٹین نے پلازہ ہوٹل کے ایک مقابلہ حسن کو کمزور خواتین کو نشانہ بنانے کیلئے ”شکار گاہ“ کے طور پر استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اہلِ غزہ نیتن یاہو کی برطرفی کے خواہاں، مگر اسرائیلی انتخابات سے کسی ”نئے آغاز“ کی امید نہیں
رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل بلانچ نے گسلین میکسویل کے ساتھ اپنی ملاقات کے معاملے پر ”ممکنہ طور پر انصاف کی راہ میں مجرمانہ رکاوٹ کھڑی کی۔“ رپورٹ میں عندیہ دیا گیا ہے کہ یہ وفاقی قانون کے تحت گواہ کو متاثر کرنے یا دباؤ ڈالنے (witness tampering) کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
وہائٹ ہاؤس اور محکمہ انصاف کی جانب سے تردید
واضح رہے کہ ٹرمپ طویل عرصے سے ایپسٹین فائلز سے جڑے کسی بھی قسم کے جنسی بدسلوکی کے الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایپسٹین کے جرائم سے لاعلم تھے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اس رپورٹ کو وسط مدتی انتخابات سے قبل ”حواس باختہ ڈیموکریٹس کی جانب سے امریکی عوام کی توجہ ہٹانے کی مایوس کن کوشش“ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی بھوک اسرائیل میں انتخابی مہم کا ہتھیار جبکہ ۵؍لاکھ فلسطینی امداد سے محروم
محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے کہا کہ محکمہ نے ’ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ‘ کی پاسداری کرتے ہوئے تقریباً ۳۰ لاکھ متعلقہ دستاویزات جاری کئے اور قانون سازوں کو بلا ترمیم رسائی کی پیشکش کی گئی۔ محکمہ نے مزید کہا کہ موجودہ انتظامیہ ہی واحد انتظامیہ ہے جس نے ایپسٹین اور میکسویل کے خلاف مقدمہ چلایا ہے۔ اس رپورٹ کا اجراء امریکی وسط مدتی انتخابات سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہوا ہے، جہاں ٹرمپ کی جانب سے ایپسٹین فائلوں سے نمٹنے کا طریقہ انتخابی مہم کا ایک نمایاں موضوع بن کر ابھرا ہے۔