• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اہلِ غزہ نیتن یاہو کی برطرفی کے خواہاں، مگر اسرائیلی انتخابات سے کسی ”نئے آغاز“ کی امید نہیں

Updated: October 26, 2026, 10:01 PM IST | Gaza

۶۱ سالہ سابق استاد احمد سمور دس سے زائد اسرائیلی حکومتوں کے دور کو دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ”ان تمام حکومتوں نے ہمارے تئیں ایک ہی رویہ اپنایا ہے۔ نیتن یاہو کی شکست ”یقیناً کسی نئے آغاز کی نمائندگی نہیں کرے گی، لیکن کم از کم ہمیں ایک ایسے لیڈر سے چھٹکارا مل جائے گا جسے ہم بچوں اور معصوم شہریوں کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیل میں انتخابی مہم اپنے آخری دنوں میں داخل ہوگئی ہے۔ غزہ کے فلسطینی غصے، تھکن اور شدید بے یقینی کے ساتھ اسے دیکھ رہے ہیں؛ وہ امید کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو اقتدار کھو دیں، لیکن انہیں اس پر شک ہے کہ ان کا جانشین کوئی معنی خیز تبدیلی لا سکے گا۔ سالہا سال کی بمباری اور تباہی کے بعد نیتن یاہو کی شکست سے کچھ حد تک جذباتی سکون تو ملے گا، مگر کم ہی لوگوں کو توقع ہے کہ کوئی نئی حکومت غزہ کی تقدیر بدل دے گی۔ فلسطینیوں کے فوری خدشات مستقل پناہ گاہ، خوراک اور پانی، اسکولوں اور اسپتالوں کی بحالی، اور ایک ایسی معیشت کی ازسرنو تعمیر ہیں جس کی تباہی نے عام شہریوں کو امداد کا محتاج بنا کر رکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کارروائی پر نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں اختلاف

شجاعیہ کی ۳۵ سالہ رہائشی منیر اسلیم جنہوں نے اسرائیلی بمباری میں اپنا گھر کھو دیا، نے کہا کہ ”غزہ میں ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسرائیلی انتخابات میں کون جیتتا ہے یا کون ہارتا ہے۔“ انہوں نے ’دی نیشنل‘ کو بتایا کہ ”ہمارے لئے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ خیموں اور ذلت کی اس زندگی سے نجات پانا اور اس بھوک و غربت کا خاتمہ ہے جو جنگ نے ہم پر مسلط کی ہے۔“ ماہانہ تقریباً ۱۰۰۰ ڈالر کمانے والے سابق مشین آپریٹر اب بے روزگار ہیں اور امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ اب بھی امید کرتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، سیکڑوں فلسطینی بے گھر

سیاسی حقیقت

اپنے اتحاد میں اختلافات کے درمیان، نیتن یاہو کو سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں چیلنجرز کے خلاف دوبارہ انتخاب کی سخت لڑائی کا سامنا ہے۔ ان کے چند ہی حریف ایسے ہیں جو فلسطینی ریاست یا بنیادی طور پر کسی مختلف فوجی حکمتِ عملی کی حمایت کرتے ہوں۔ تجزیہ کار مصطفیٰ ابراہیم نے کہا کہ اس ووٹنگ کو فلسطینی حقوق پر ریفرنڈم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ پالیسی میں کسی بنیادی تبدیلی کے بجائے ”اسرائیلی سیکوریٹی مقاصد کو حاصل کرنے کے مختلف طریقوں“ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں کیونکہ وہ انہیں اس چیز کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جسے وہ نسل کشی سمجھتے ہیں، لیکن اس کا مطلب دوسرے امیدواروں کی حمایت ہرگز نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل سے۲۰۰۰؍ فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کا اعتراف

عربی زبان کے سابق استاد اور ۶۱ سالہ احمد سمور دس سے زائد اسرائیلی حکومتوں کے دور کو دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ”ان تمام حکومتوں نے ہمارے تئیں ایک ہی رویہ اپنایا ہے۔ نیتن یاہو کی شکست ”یقیناً کسی نئے آغاز کی نمائندگی نہیں کرے گی، لیکن کم از کم ہمیں ایک ایسے لیڈر سے چھٹکارا مل جائے گا جسے ہم بچوں اور معصوم شہریوں کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔“ شمالی غزہ میں خیمہ اسکول کی ۲۵ سالہ استانی امل الحناوی نے کہا کہ تعمیر نو زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ”اگر غزہ کے لیے بہتر پالیسیوں والا کوئی شخص جیت بھی جائے اور اس علاقے کی تعمیر نو شروع کر دے، تب بھی اس میں سالوں لگ جائیں گے کیونکہ ہر شعبے میں تباہی کا پیمانہ بیان سے باہر ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK