Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارے کے الحاق کے اسرائیلی عزائم کے درمیان فلسطینیوں کو `نئی نَکبہ` کا سامنا: مصطفیٰ برغوثی

Updated: August 21, 2026, 10:10 PM IST | Jerusalem

فلسطینی سیاستدان مصطفیٰ برغوثی نے مغربی ممالک پر منافقت کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کئے بغیر دو ریاستی حل کی توثیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی استقامت کی حقیقی حمایت کیلئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر حقیقی نتائج اور کارروائی ضروری ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطینی سیاست دان مصطفیٰ برغوثی نے جمعرات کے روز ترک نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں متنبہ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارہ ۱۹۴۸ء کے بعد سے اپنے ”سب سے خطرناک مرحلے“ اور ”نئے نکبہ“ کا سامنا کررہا ہے۔ فلسطینی نیشنل انیشیٹیو موومنٹ کے سیکریٹری جنرل برغوثی نے اوسلو معاہدے کو ”ختم شدہ“ قرار دیتے ہوئے دلیل دی کہ اسرائیل مغربی کنارے کا الحاق کرنے اور فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کیلئے اسرائیلی قابضین کو ”ہر اول دستہ“ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

برغوثی نے نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ (Qusra) میں جاری محاصرے کی طرف اشارہ کیا، جہاں اسرائیلی افواج اور قابضین نے مسلسل ۱۱ دنوں سے تین فلسطینی گھروں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے مبینہ طور پر قصبے کے ۱۶ فلسطینی گھروں کا کنٹرول سنبھال لیا، انہیں فوجی ٹھکانوں میں تبدیل کر دیا اور کچھ رہائشیوں کو زبردستی باہر نکال دیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ”۱۹۴۸ء کے بعد سے فلسطین کو درپیش سب سے خطرناک ترین چیزوں میں سے ایک“ قرار دیا اور ان ہتھکنڈوں کا موازنہ ۱۹۴۸ء کی نکبہ کے دوران ارگون اور اسٹرن گینگ جیسے صیہونی مسلح گروہوں کے استعمال کردہ طریقوں سے کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی: سابق وزیراعظم مرحوم نجم الدین اربکان کی صیہونیت کو مگرمچھ سے تشبیح آج بھی مستعمل

برغوثی نے بستیوں میں سیکوریٹی اختیارات فوج سے پولیس کو منتقل کرنے کے اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے اسے ایک ایسا اقدام قرار دیا جو عملی طور پر مغربی کنارے کو وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کے حوالے کرتا ہے۔ برغوثی نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی خاموشی کی وجہ سے ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے ”بورڈ آف پیس“ قائم کرنے کے باوجود اسرائیل کی حقیقی معنوں میں مذمت نہ کرنے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی قومیت کے فلسطینی مساوی تحفظ کے حقدار ہیں۔ انہوں نے فلسطینی، امریکی یا ہسپانوی شہریت کے حامل افراد کے درمیان تفریق کو مسترد کر دیا۔

برغوثی نے مغربی ممالک پر منافقت کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کئے بغیر دو ریاستی حل کی توثیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی استقامت کی حقیقی حمایت کیلئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر حقیقی نتائج اور کارروائی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہند رجب کے قتل کی تحقیق کو اس کی دادی نے مسترد کردیا

اندرونی محاذ پر، برغوثی نے فلسطینی قیادت اور سیاسی دھڑوں پر زور دیا کہ وہ قومی یکجہتی کی کوشش کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوسلو معاہدے کو ترک کیا جائے اور تاریخ کے سب سے خطرناک مرحلے کا سامنا کرنے کیلئے ”ایک متفقہ قومی حکمت عملی پر مبنی متحد قومی قیادت“ تشکیل دی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK