• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈومبیولی: بی جے پی کے کارپوریٹر نے فرضی دستاویزات کی مدد سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنانےکا انکشاف کیا

Updated: September 01, 2026, 3:34 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کی جانب سے مئی میں کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کا دورہ کرکے مسلمانوں پر  پیدائش و اموات کے جعلی سرٹیفکیٹ بنوانے کے سنگین الزامات عائد کئے جانے کے بعد تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں کسی مسلمانوں کے جعلی سرٹیفکیٹ کا ثبوت نہ ملنے کے باوجود اب کے ڈی ایم سی کے شعبۂ صحت عامہ و طب کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ۲۷؍ گاؤں کے داوڑی اور ناندیولی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ۱۰؍ افراد کے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کی جانب سے مئی میں کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کا دورہ کرکے مسلمانوں پر  پیدائش و اموات کے جعلی سرٹیفکیٹ بنوانے کے سنگین الزامات عائد کئے جانے کے بعد تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں کسی مسلمانوں کے جعلی سرٹیفکیٹ کا ثبوت نہ ملنے کے باوجود اب کے ڈی ایم سی کے شعبۂ صحت عامہ و طب کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ۲۷؍ گاؤں کے داوڑی اور ناندیولی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ۱۰؍ افراد کے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ان تمام معاملات میں سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے افراد کا تعلق برادرانِ وطن سے بتایا جا رہا ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ اس  جعلسازی کا پردہ فاش کسی اپوزیشن پارٹی نے نہیں بلکہ خود بی جے پی کے ایک کارپوریٹر نے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: صارفین بجلی کی آنکھ مچولی اور بیسٹ بجلی چوری سے پریشان

تفصیلات کے مطابق بی جے پی کارپوریٹر جالندر پاٹل اور ایڈوکیٹ مندار ٹاورے نے انکشاف کیا کہ میونسپل  شعبۂ صحت کے افسران کی ساز باز سے داوڑی اور ناندیولی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ۱۰؍ افراد کے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں۔ جالندر پاٹل نے کہا کہ اس پورے گورکھ دھندے میں نہ صرف ضابطوں کی دھجیاں اڑائی گئیں بلکہ مشتبہ پنچناموں کے ذریعے بدعنوانی کا بڑا کھیل کھیلا گیا۔ انہوں نے کارپوریشن سے تمام بوگس سرٹیفکیٹ منسوخ کرکے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن پارٹیوں کے ووٹروں کے نام بڑی تعداد میں حذف کا الزام

ایڈوکیٹ مندار ٹاورے نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے قبل لواحقین کی جمع کردہ دستاویزات، جائے وفات، مقامی ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ اور پنچوں کے دستخطوں کی تصدیق کی جاتی ہے؟ جالندر پاٹل نے نشاندہی کی کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے جن مقامی گواہوںکے دستخط درکار ہوتے ہیں، ان کے بجائے ٹٹوالا، ڈومبیولی اور دیگر دور دراز علاقوں کے غیر متعلقہ افراد کے دستخط لئے گئے جبکہ متوفی کے اصل رشتے داروں اور مقامی مکینوں کو اس کا علم تک نہ تھا۔ دستاویزات کے مطابق ۸ ؍متوفین کی آخری رسوم ناندیولی شمشان گھاٹ میں ادا کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم مقامی پولیس پاٹل نے تحریری تصدیق کے ذریعے واضح کیا کہ ایسی کوئی تدفین یا آخری رسوم اس شمشان گھاٹ میں ہوئیں ہی نہیں۔مزید برآں حاجی ملنگ روڈ کے ایک ہی نجی ڈاکٹر نے ان تمام افراد کے فوت ہونے کی تصدیق کی تھی۔ بعد ازاں مذکورہ ڈاکٹر نے اپنے لیٹر ہیڈ پر یہ اعتراف بھی کیا کہ اس نے یہ تمام سرٹیفکیٹ محض ایک شخص کے کہنے پر جاری کئے تھے۔ یہاں ایک چونکا دینے والا انکشاف یہ بھی ہوا کہ ۲۰؍ سال قبل فوت شدہ شخص کے نام اور سرنیم میں ردوبدل کر کے اس کا نیا ڈیتھ سرٹیفکیٹ تیار کرایا گیا۔خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ علاقے میں جعلی دستاویزات بنانے والا ایک گروہ سرگرم ہے جس کی جڑیں شہری انتظامیہ کے اندر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ کریٹ سومیا ریاست بھر میں فرضی اور جعلی سرٹیفکیٹ کے معاملے کو مسلسل اور جارحانہ انداز میں اٹھا رہے ہیں۔ اسی مہم کے تحت وہ کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن  کے ہیڈکوارٹرز بھی پہنچے تھے جہاں انہوں نے  ۲۰۰۰ ؍سے زائد جعلی برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کا سنگین دعویٰ کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے اس پورے معاملے کو انتخابی سیاست سے جوڑتے ہوئے اسے نام نہاد’ ووٹ جہاد‘ کی سازش قرار دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK