• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیوالی کے بعد دھاراوی ماہم بریج منہدم کردیا جائے گا

Updated: October 26, 2026, 4:30 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

سائن بریج تعمیر ہونے اور متبادل راستہ دستیاب ہونے سے اب اس بریج کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سائن اسپتال جانے والے مریضوں کو دشواری ہوگی۔

Similar to Sion, a fifth and sixth line will also be laid here between CSMT and Kurla. Image: INN
سائن کی طرح یہاں بھی سی ایس ایم ٹی سے کرلا کے درمیان پانچویں اور چھٹی لائن بچھائی جائے گی۔ تصویر: آئی این این

از سر نو تعمیر کے بعد سائن بریج شروع ہوتے ہی ’بی ایم سی‘ (برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن) نے دیوالی کے بعد دھاراوی سے ماہم کے درمیان واقع بریج کو منہدم کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ سائن کی طرح یہاں بھی سینٹرل لائن میں سی ایس ایم ٹی سے کرلا کے درمیان پانچویں اور چھٹی لائن بچھائی جائے گی۔سینٹرل ریلوے کے ایک افسر کے مطابق تعمیر کے بعد سائن بریج شروع ہوجانے کی وجہ سے اس بریج کو منہدم کرنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے کیونکہ کوئی متبادل راستہ دستیاب رہے بغیر اس کو منہدم کرنا دشوار تھا۔ 

کوئی بھی راستہ جو مشرقی اور مغربی حصوں یا دو مختلف علاقوں کو جوڑنے کیلئے ’لنک روڈ‘ کا کام کرتا ہے ، اس کے دستیاب نہ رہنے کی وجہ سے عوام کو کتنی دشواریاں پیش آسکتی ہیں یہ بات سائن بریج منہدم کرنے پر بخوبی سمجھ آگئی تھی کیونکہ اس کے بند ہونے کے بعد سے دھاراوی ماہم بریج پر ٹریفک بڑھ گیا تھا۔

ریلوے کے مطابق جتنے بھی ’آر او بی‘ (روڈ اوور بریج یا ریلوے لائن کے اوپر سے گزرنے والے بریج) ہیں ان سب کو ایک ساتھ منہدم کرکے ایک ساتھ تعمیر نو شروع نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس سے ٹریفک پر بہت بوجھ پڑتا ہے اس لئے جس بریج کو منہدم کیا جانا ہے اس کا متبادل راستہ موجود ہونا ضروری ہے۔ بی ایم سی نے اس بریج کے ’جنرل ارینجمنٹ ڈرائنگ‘ (جی اے ڈی) کو بنیادی طور پر منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی لوکل ٹرین متعدد تکنیکی خرابیوں کے باعث تاخیر کا شکار، مسافروں کو پریشانی

دھاراوی کے جس بریج کو اب منہدم کیا جانا ہے وہ سائن اور ماہم کے درمیان اہم راستہ ہے۔اس کے انہدام سے اس علاقے میں ٹریفک نظام پر جو بوجھ پڑے گا۔ وہ اپنی جگہ ہے لیکن اس کی وجہ سے سائن اسپتال جانے والے مریضوں اور ایمبولنس کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گاجو اس بریج کے ایک کنارے پر واقع ہے ۔ البتہ اسے بند کرنے اور انہدامی کارروائی شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان اسی وقت کیا جاسکے گا جب متعلقہ افسران کو تمام ضروری اجازت نامے حاصل ہوجائیں گے ۔ فی الوقت ریلوے انتظامیہ ٹریفک پولیس سے بھی رابطہ میں ہے کیونکہ بریج بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کو متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا اور سائن اسپتال آنے والی ایمبولنس سے متعلق بھی کوئی انتظام کرنا ہوگا۔

چونکہ بریج کے نیچے اور اس کے اوپر سے کئی کیبل، وائر، پائپ لائن اور ڈکٹ وغیرہ گزرتے ہیں اس لئے انہدامی کارروائی شروع کرنے سے قبل ان سب کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑے گا ۔ 

واضح رہے کہ ریلوے ٹریک کے اوپر سے گزرنے والے بریجوں کو بی ایم سی اور ریلوے انتظامیہ مل کر تعمیر کرتے ہیں۔ جو حصہ ریلوے ٹریک کے اوپر سے گزرتا ہے اس کی تعمیر کی ذمہ داری ریلوے پر ہوتی ہے اور جو حصہ زمین پر ہوتا ہے اسے بنانے کا کام بی ایم سی کرتی ہے۔اس لئے اسے تعمیر کرنے کی ذمہ داری بھی ان دونوں ایجنسیوں پر ہی ہوگی۔چونکہ دیوالی قریب ہے اور اس تہوار میں خریداروں کی بھیڑ ہوتی ہے لوگ سازو سامان کے ساتھ مختلف مقامات سے اپنے گھروں کاسفر کرتے ہیں اس لئے اس وقفہ کے دوران ٹریفک پرپڑنے والے بوجھ کے پیش نظر اسے دیوالی کے بعد بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئے بریج میںکس چیز کا خیال رکھا جائے گا

اب جو نیا بریج بنایا جائے گا اس کا ڈیزائن اور طوالت ایسی رکھی جائے گی کہ اس کے نیچے سے سینٹرل ریلوے کی پانچویں اور چھٹی لائن آسانی سے گزر سکے۔ 

نیا فٹ اوور بریج تعمیر کیاجائے گا

اس بریج کو بند کرنے سے قبل سینٹرل ریلوے یہاں راہگیروں کیلئے ایک نیا ’فٹ اوور بریج‘ تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK