مہاراشٹر نو نرمان سینا کا احتجاج، انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی۔
ٹریفک جام کے سبب ہونے والی دشواریوں کے خلاف ایم این ایس کارکنوں کے ساتھ بڑی تعداد میں شہریوں نے احتجاج کیا۔ تصویر: آئی این این
کلیان شیل پھاٹا روڈ پر ٹریفک کے سنگین اور دیرینہ بحران نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ سڑک کی توسیع کے باوجود ناقص منصوبہ بندی اور محکمۂ ٹریفک کی عدم توجہی کے باعث یہ اہم گزرگاہ مستقل عذاب بن چکی ہے۔ شہریوں، ملازمین اور طلبہ کی مشکلات کو اجاگر کرنے اور انتظامیہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے مہاراشٹر نو نرمان سینا ( ایم این ایس) نے اتوار کی صبح سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
سابق رکن اسمبلی راجو پاٹل کی قیادت میں کلیان پھاٹا روڈ پرزبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اس مظاہرے میں صرف سیاسی کارکنان ہی نہیں بلکہ روزانہ ٹریفک میں پھنسنے والے عام مسافر، مقامی باشندے اور بھومی پتر دھرمابھیمانی تنظیم کے صدر مہندر پاٹل اپنے حامیوں کے ہمراہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔مظاہرین نے موقف اختیار کیا کہ رات کے چند گھنٹوں کے علاوہ پورا دن یہ شاہراہ گاڑیوں کی طویل قطاروں میں جکڑی رہتی ہے۔ کولسے واڑی، ڈائے گھر اور ممبرا ٹریفک پولیس کے گشت کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آسکی۔
ایم این ایس لیڈروں نے الزام عائد کیا کہ ٹریفک پولیس ٹریفک کی روانی بحال کرانے کے بجائے ٹولیوں کی شکل میں کھڑے ہوکر صرف گاڑیاں روکنے اور ڈرائیوروں کو ہراساں کرنے میں مصروف رہتی ہے جس سے جام مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔مظاہرین نے ایسی مبینہ وصولی اور لاپروائی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ڈومبیولی کے صدر ہرشد پاٹل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس روزمرہ کے عذاب سے شہریوں کے قیمتی وقت سڑکوں پر ضائع ہو رہے ہیں۔ بروقت دفاتر نہ پہنچنے پر ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتیاں ہو رہی ہیں جبکہ اسکول بسوں کے پھنسنے سے طلبہ اور ان کے والدین ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ حتیٰ کہ ہنگامی خدمات اور ایمبولنس کو بھی راستہ نہیں مل پاتا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ دن کے مصروف اوقات میں کن طاقتور لوگوں کے دباؤ پر بھاری گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر گزرنے دیا جاتا ہے؟
مقررین نے واضح کیا کہ بارہا تحریری شکایات کے باوجود جب پولیس نے کوئی نوٹس نہیں لیا تو مجبوراً احتجاج کا راستہ اپنانا پڑا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ انتظامیہ اب محض وقتی یا زبانی جمع خرچ کے بجائے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرے بصورت دیگر عوامی غم و غصے کے پیش نظر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔اس موقع پر وفد نے ٹریفک پولیس کو میمورنڈم بھی پیش کیا اور دشواریوں سے آگاہ کیا۔