Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدرسہ کو عطیہ دلانے کے نام پر ڈیجیٹل اریسٹ کے پیسے ڈال دیئے

Updated: May 12, 2026, 2:00 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

مدرسہ کے ۷۰؍ سالہ ٹرسٹی کو ہائی کورٹ نے گرفتاری کے ڈیڑھ سال بعد ضمانت دی، چندہ دلانے کے بہانے جعلسازوں نے دھوکہ دیا۔

Bombay Highcourt.Photo:INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
 بامبے ہائی کورٹ نے ایک خاتون کے جھوٹے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کے کیس میں ۷۰؍ سالہ علی احمد خان کو گرفتاری کے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ بعد ضمانت دے دی ہے۔ حالانکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ خود اس شخص سے دھوکے کا شکار ہوئے ہیں جس نے شکایت کنندہ خاتون کو ڈیجیٹل اریسٹ کرکے ان سے لاکھوں روپے وصول کرلئے اور فرار ہوگیا تھا۔
علی احمد خان ناسک میں مدرسہ چلانے کے ساتھ امامت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں لیکن ناسک کی سائبر کرائم پولیس نے اس بنیاد پر انہیں گرفتار کرلیا تھا کہ ایک خاتون کو ڈیجیٹل اریسٹ کرکے ان سے ۲۳؍ لاکھ روپے وصول کئے گئے اور وہ مدرسہ کے بینک اکائونٹ میں جمع کروائے گئے تھے اور پھر وہ رقم جموں کشمیر میں ایک بینک کے اکائونٹ میں منتقل کردی گئی۔
اس معاملے کی ابتداء ۲۴؍ دسمبر ۲۰۲۴ء کو اس وقت ہوئی تھی جب مادھوری امر واسوانی نے ناسک کے سائبر پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ کسی نامعلوم شخص نے انہیں وہاٹس ایپ اور ویڈیو کال کرکے دھمکی دی تھی کہ شکایت کنندہ ’منی لانڈرنگ‘ کے کیس میں ملوث ہیں جس کی تفتیش سی بی آئی کررہی ہے۔ اس معاملے میں پھنسنے سے بچانے کے نام پر ملزمین نے اس خاتون کو ۲۳؍ لاکھ روپے ایک بینک اکائونٹ میں ڈالنے کو کہا تھا۔ اس خاتون نے ملزمین کے بتائے ہوئے بینک اکائونٹ میں پیسے ڈال دیئے لیکن بعد میں جب اس تعلق سے اپنے بیٹے کو بتایا تو انہیں سمجھ آیا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ان کی شکایت پر تفتیش شروع کی گئی تو پتہ چلا کہ شکایت کنندہ نے جس بینک اکائونٹ میں رقم ڈالی تھی وہ اکائونٹ فلاح دارین صابری مدرسہ سمیتی کا تھا جس کے علی احمد ٹرسٹی اور ان کا بیٹا اسد نائب صدر ہیں۔اس لئے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
 
 
علی احمد کے وکیل سید واجد حسین کے مطابق ۲؍ افراد بشمول مفرور ملزم الطاف شفیع ان کے پاس آئے تھے اور ان سے کہا تھا کہ وہ ان کے مدرسہ کیلئے عطیات دلوا سکتے ہیں۔ ان افراد نے پہلے انہیں آئی سی آئی سی آئی بینک میں نیا اکائونٹ کھولنے کو کہا تاکہ اس میں آن لائن رقم منگوائی جاسکے۔ اس کے بعد انہوں نے اس میں ۴۰؍ ہزار روپے ڈال دیئے تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ انہیں عطیات دلائے جارہے ہیں۔ اس کے بعد ان افراد نے مزید عطیات دلانے کے بہانے سے ان سے بینک کا اے ٹی ایم کارڈ اور پاس ورڈ وغیرہ سب حاصل کرلئے۔
 
 
ایڈوکیٹ واجد کے مطابق علی احمد کو خبر نہیں تھی کہ متذکرہ افراد نے کسی کو ڈیجیٹل اریسٹ کرکے اس سے زبردستی لاکھوں روپے اس نئے اکائونٹ میں ٹرانسفر کروالئے اور پھر یہ ساری رقم جموں کشمیر کے اپنے بینک اکائونٹ میں ٹرانسفر کرلی۔ ناسک کی سیشن کورٹ نے ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کردی تھی لیکن بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس شیو کمار دیگے نے ان کی عمر اور یہ دیکھتے ہوئے کہ ان پر الزامات ثابت کرنے کیلئے پولیس کو ثبوت کی ضرورت ہے، حال ہی میں انہیں ضمانت دیدی۔ایسی ہی دھوکہ دہی مفرور ملزمین نے اندور اور بلاس پور میں بھی کسی کے ساتھ کی تھی اسلئے علی احمد اور ان کے بیٹے کو  جن۳؍ مختلف کیسوں میں ملزم بنایا گیا تھا ان میں ضمانت مل چکی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK