اداکارہ سائرہ بانو نے۷۷؍ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر وطنِ عزیز کے عوام کو خاص انداز میں مبارکباد دی۔ سوشل میڈیا پر اپنے پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ یوم جمہوریہ ان کے لیے صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ایک گہرا احساس رہا ہے۔
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai
اداکارہ سائرہ بانو نے۷۷؍ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر وطنِ عزیز کے عوام کو خاص انداز میں مبارکباد دی۔ سوشل میڈیا پر اپنے پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ یوم جمہوریہ ان کے لیے صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ایک گہرا احساس رہا ہے۔
اداکارہ سائرہ بانو نے۷۷؍ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر وطنِ عزیز کے عوام کو خاص انداز میں مبارکباد دی۔ سوشل میڈیا پر اپنے پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ یوم جمہوریہ ان کے لیے صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ایک گہرا احساس رہا ہے۔
سائرہ نے بتایا کہ بچپن میں وہ انگلینڈ چلی گئی تھیں اور کافی وقت لندن میں گزارا۔ لیکن یہ فاصلہ ہندوستان سے ان کے تعلق کو کم نہیں کر سکا، بلکہ انہیں اور مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جتنا دور گئی، میرا ملک اتنا ہی قریب آیا۔ دور رہ کر مجھے ایک اہم بات سمجھ آئی کہ ممالک کو ان کی سرحدوں یا عمارتوں سے نہیں، بلکہ ان کی انسانیت سے یاد کیا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے لکھا کہ ’’ امن اور انسانیت الگ لگ سکتے ہیں، لیکن ایک کے بغیر دوسرا قائم نہیں رہ سکتا۔ حقیقی امن تب ہی پیدا ہوتا ہے، جہاں انسانیت زندہ رہتی ہے۔ بھارت کے ہر کونے میں، بھیڑ بھری سڑکوں سے لے کر پرامن دیہات تک، ایک ان کہی حقیقت موجود ہے۔ ہم مختلف نظر آتے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف رسوم و رواج رکھتے ہیں، لیکن ہمارے دل ایک ہی جذبے سے دھڑکتے ہیں: مدد کرنے، پروا کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے۔ سائرہ بانو نے چھوٹے چھوٹے لمحوں کا ذکر کیا جو ہمیں سب سے زیادہ متعین کرتے ہیں۔ جیسے کسی اجنبی کی پُر اعتمادنظر، مشکل میں بڑھایا گیا ہاتھ، یا بغیر الفاظ کے بانٹی گئی ہنسی۔
یہ بھی پڑھئے:کرن جوہر نے سوشل میڈیا سے بریک لیا
انہوں نے اپنے مرحوم شوہر اور اداکار دلیپ کمار کا خاص طور پر ذکر کیا۔ سائرہ بانو نے لکھا کہ ’’دلیپ صاحب اس جذبے پر بہت یقین رکھتے تھے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ہندوستان کی روح اس کے یادگاروں یا تاریخ کی کتابوں میں نہیں، بلکہ اس کے لوگوں میں ہے، ان کی مہربانی، ہمدردی اور دوسروں کو اوپر اٹھانے کے یقین میں ہے۔ ان کے لیے انسانیت کوئی مثالی بات نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ: اسکاٹ لینڈ کے اسکواڈ کا اعلان، افغان نژاد بولر پہلی بار شامل
انہوں نے مزید کہاکہ ’’جب عاجزی ہماری رہنمائی کرتی ہے تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ ذات، ثقافت، زبان یا عقیدے کی تمام مختلف ہونے کے باوجود ہمیں واقعی ایک ساتھ جوڑنے والی چیز ہر انسان کے لیے احترام ہے۔ یہی وہ ہندوستان تھا، جس پر دلیپ صاحب یقین رکھتے تھے اور یہی وہ ہندوستان ہے، جس کی ہمیں حفاظت کرنی چاہیے۔ آپ سبھی کو ۷۷؍ویں یوم جمہوریہ کی دلی مبارکباد۔‘‘