محکمہ ماہی گیری اور مقامی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کشتی سمیت جنریٹر اور۳۰؍ایل ای ڈی لائٹس ضبط کئے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 4:17 PM IST | Siraj Sheikh | Alibag
محکمہ ماہی گیری اور مقامی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کشتی سمیت جنریٹر اور۳۰؍ایل ای ڈی لائٹس ضبط کئے۔
محکمہ ماہی گیری اور مقامی انتظامیہ نے ایک مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے رائے گڑھ ضلع کے مانڈوا ساحل کے قریب سمندر میں غیر قانونی طور پر ایل ای ڈی لائٹس کا استعمال کر کے ماہی گیری کرنے والی کشتی کو ضبط کر لیا ہے۔ اس دوران کشتی سے۳۰؍ ایل ای ڈی لائٹس اور جنریٹر بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں محکمہ ماہی گیری کے افسر مہیش کھرات نے بتایا کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ مانڈوا کے سمندری علاقے میں کچھ ماہی گیر ممنوعہ طریقے سے ایل ای ڈی لائٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹیم نے سمندر میں چھاپہ مارا اور موقع پر ہی کشتی کو پکڑ لیا۔ پکڑی گئی کشتی کا نام’’مہا لکشمی پرسن۲‘‘ ہے۔کشتی کے مالک کے خلاف مہاراشٹر فشریز ایکٹ۱۹۸۱ء اور۲۰۲۱ء تحت کاروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایل ای ڈی لائٹس کے ذریعے ماہی گیری کرنے پر حکومت کی جانب سے سخت پابندی عائد ہے کیونکہ یہ طریقہ کار سمندری حیات اور ماحولیاتی نظام کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ تیز روشنی کی وجہ سے مچھلیاں ایک جگہ جمع ہو جاتی ہیں، جس سے نہ صرف بڑی بلکہ چھوٹی مچھلیاں بھی بڑے پیمانے پر ماری جاتی ہیں، اور روایتی ماہی گیروں کے روزگار پر برا اثر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹ چوری پر ہم اسمبلی سے پارلیمنٹ تک بحث کیلئےتیار ہیں‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام برآمد شدہ الیکٹرانک سامان اپنی تحویل میں لے کر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی ہے۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف اس طرح کی مہم مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
خیال رہے کہ رائے گڑھ ضلع کی سمندری پٹی میں علی باغ، ارن، مروڈ اور شری وردھن علاقوں میں اس طرح کی غیر قانونی ماہی گیری کو روکنے کے لیے وقتاً فوقتاً خصوصی مہم چلائی جاتی ہے۔ ان مہمات میں اب تک غیر قانونی طور پر ایل ای ڈی لائٹس اور جنریٹر استعمال کرنے والی۱۲؍ سے۱۵؍کشتیوں پر کاروائی کرتے ہوئے انہیں ضبط کر لیا گیا اور تعزیری کارروائی کی گئی ۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ ضلع کے گہرے سمندر میں۔ان سرگرمیوں نے زور پکڑا ہے لیکن یہ غیر قانونی عمل ہے اس طرح کے تباہ کن عمل مقامی روایتی ماہی گیروں کی روزی روٹی کو متاثر کر رہے ہیں۔