Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈومبیولی :پمپلیشور مندر کی زمین کے معاملے پر مہایوتی میں اختلاف

Updated: June 11, 2026, 2:53 PM IST | Ejaz Abduilghani | Dombivli

اس سلسلےمیںادے سامنت نے پریس کانفرنس کرکے بتایا کہ زمین دینے کے معاملے میں ان پر شیوسینا کے کسی لیڈر کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔

This Picture Was Posted By Uday Samant On X..Photo:INN
یہ تصویر ادے سامنت نے ایکس پر پوسٹ کی۔ تصویر:آئی این این
ایم آئی ڈی سی میں واقع پمپلیشور مندر سے متصل اراضی کی منتقلی کے معاملے پر مہایوتی اتحاد کے دو اہم حلیفوں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان کریڈٹ لینے کی جنگ اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ وزیر صنعت ادے سامنت نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مندر کو زمین دینے کے فیصلے میں تاخیر کے لئے شیو سینا نہیں بلکہ بی جے پی کے ہی بعض لیڈراور عہدیدار ذمہ دار تھے۔ سامنت کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر وہ کون لوگ تھے جو پسِ پردہ اس فیصلے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔
 
 
واضح رہے کہ چند روز قبل ریاستی کابینہ نے ڈومبیولی کے پمپلیشور مندر کو ایم آئی ڈی سی کے دائرہ اختیار میں آنے والی تقریباً۴؍ ایکڑ اراضی دینے کی منظوری دی تھی۔اس فیصلے کے فوراً بعد بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اس کا کریڈٹ لینے کی ہوڑ شروع ہو گئی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان جو شروع سے اس معاملے کی پیروی کرتے رہے ہیں نے مندر میں خصوصی پوجا کی۔بعد ازاں کلیان لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے نے بھی وہاں حاضری دی۔اتوار کو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے مندر میں پوجا کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےاس فیصلے کا بڑا کریڈٹ رویندر چوہان کو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلسل پیروی اور دباؤ کے ذریعے یہ کام ممکن بنایا۔تاہم اس موقع پر شری کانت شندے کا نام نہ لئے جانے پر شیو سینا کے حلقوں میں ناراضگی دیکھی گئی۔تقریب کے دوران رویندر چوہان نے یہ کہہ کر ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا کہ کچھ لوگ وزیرِ صنعت ادے سامنت کے کان بھر رہے تھے اور ان پر مندر کو زمین نہیں دینے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ آخر وہ لوگ کون تھے جو اس فیصلے کی مخالفت کر رہے تھے۔بدھ کوبالاصاحب بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیر صنعت ادے سامنت نے اس معاملے پر کھل کر اظہار خیال کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر واقعی یہ جاننا ہے کہ اس فیصلے میں تاخیر کیوں ہوئی تو اس کی وضاحت رویندر چوہان کو کرنی چاہئے۔ سامنت نے دعویٰ کیا کہ تاخیر کے اسباب اور مختلف مطالبات سے متعلق مکمل معلومات ان کے پاس موجود ہیں اور جن افراد نے اس سلسلے میں مشورے دیئے یا رکاوٹیں کھڑی کیں وہ شیو سینا کے نہیں بلکہ بی جے پی کے ہی افراد تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈھائی سے تین برس کے دوران اس معاملے کی پیروی اور میٹنگوں کا مکمل ریکارڈ ان کے پاس محفوظ ہے۔
 
 
ادے سامنت نے اتوار کی تقریب میں خود کو اظہارِ خیال کا موقع نہ دیئے جانے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں صرف دو منٹ بولنے کا موقع مل جاتا تو وہ عوام کو سچ بتا سکتے تھے۔ادے سامنت کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ رویندر چوہان اور شری کانت شندے کے درمیان جاری سرد جنگ  سے سب واقف ہیں لیکن اب اصل بحث اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ بی جے پی کے وہ کون سے لیڈر یا عہدیدار تھے جنہوں نے اس معاملے میں شیو سینا کو بدنام کرنے یا فیصلے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ہنگامہ آرائی کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK