اس سلسلےمیںادے سامنت نے پریس کانفرنس کرکے بتایا کہ زمین دینے کے معاملے میں ان پر شیوسینا کے کسی لیڈر کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔
یہ تصویر ادے سامنت نے ایکس پر پوسٹ کی۔ تصویر:آئی این این
ایم آئی ڈی سی میں واقع پمپلیشور مندر سے متصل اراضی کی منتقلی کے معاملے پر مہایوتی اتحاد کے دو اہم حلیفوں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان کریڈٹ لینے کی جنگ اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ وزیر صنعت ادے سامنت نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مندر کو زمین دینے کے فیصلے میں تاخیر کے لئے شیو سینا نہیں بلکہ بی جے پی کے ہی بعض لیڈراور عہدیدار ذمہ دار تھے۔ سامنت کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر وہ کون لوگ تھے جو پسِ پردہ اس فیصلے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ریاستی کابینہ نے ڈومبیولی کے پمپلیشور مندر کو ایم آئی ڈی سی کے دائرہ اختیار میں آنے والی تقریباً۴؍ ایکڑ اراضی دینے کی منظوری دی تھی۔اس فیصلے کے فوراً بعد بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اس کا کریڈٹ لینے کی ہوڑ شروع ہو گئی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان جو شروع سے اس معاملے کی پیروی کرتے رہے ہیں نے مندر میں خصوصی پوجا کی۔بعد ازاں کلیان لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے نے بھی وہاں حاضری دی۔اتوار کو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے مندر میں پوجا کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےاس فیصلے کا بڑا کریڈٹ رویندر چوہان کو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلسل پیروی اور دباؤ کے ذریعے یہ کام ممکن بنایا۔تاہم اس موقع پر شری کانت شندے کا نام نہ لئے جانے پر شیو سینا کے حلقوں میں ناراضگی دیکھی گئی۔تقریب کے دوران رویندر چوہان نے یہ کہہ کر ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا کہ کچھ لوگ وزیرِ صنعت ادے سامنت کے کان بھر رہے تھے اور ان پر مندر کو زمین نہیں دینے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ آخر وہ لوگ کون تھے جو اس فیصلے کی مخالفت کر رہے تھے۔بدھ کوبالاصاحب بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیر صنعت ادے سامنت نے اس معاملے پر کھل کر اظہار خیال کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر واقعی یہ جاننا ہے کہ اس فیصلے میں تاخیر کیوں ہوئی تو اس کی وضاحت رویندر چوہان کو کرنی چاہئے۔ سامنت نے دعویٰ کیا کہ تاخیر کے اسباب اور مختلف مطالبات سے متعلق مکمل معلومات ان کے پاس موجود ہیں اور جن افراد نے اس سلسلے میں مشورے دیئے یا رکاوٹیں کھڑی کیں وہ شیو سینا کے نہیں بلکہ بی جے پی کے ہی افراد تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈھائی سے تین برس کے دوران اس معاملے کی پیروی اور میٹنگوں کا مکمل ریکارڈ ان کے پاس محفوظ ہے۔
ادے سامنت نے اتوار کی تقریب میں خود کو اظہارِ خیال کا موقع نہ دیئے جانے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں صرف دو منٹ بولنے کا موقع مل جاتا تو وہ عوام کو سچ بتا سکتے تھے۔ادے سامنت کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ رویندر چوہان اور شری کانت شندے کے درمیان جاری سرد جنگ سے سب واقف ہیں لیکن اب اصل بحث اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ بی جے پی کے وہ کون سے لیڈر یا عہدیدار تھے جنہوں نے اس معاملے میں شیو سینا کو بدنام کرنے یا فیصلے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ہنگامہ آرائی کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔