سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی شکایات کے ازالے کیلئے کئے جانے والے دعوے ایک بار پھر محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئے۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 11:39 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli
سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی شکایات کے ازالے کیلئے کئے جانے والے دعوے ایک بار پھر محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئے۔
سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی شکایات کے ازالے کیلئے کئے جانے والے دعوے ایک بار پھر محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئے۔ انتظامیہ نے جمعرات کو مختلف اہم ریلوے اسٹیشنوں پر عجلت میں `’ریل جن سنواد‘ مہم کا انعقاد کیا جس کا مقصد مسافروں کے مسائل اور تجاویز کو سننا بتایا گیا تھا۔ تاہم پیشگی اطلاع اور تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے یہ مہم ناکام ثابت ہوئی۔ مسافر تنظیموں کا الزام ہے کہ ریلوے نے عوام کے سوالات سے بچنے کیلئے چوری چھپے اور خانہ پری کے طور پر یہ پورا عمل مکمل کیا ہے۔
واضح رہے کہ سینٹرل ریلوے پر روزانہ لاکھوں مسافر کیڑے مکوڑوں کی طرح جان لیوا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ صرف کلیان اور تھانے کے درمیان ہر ہفتہ ۲؍ سے ۳؍ مسافر ٹرین سے گر کر اپنی جان گنواتے ہیں۔لوکل ٹرینوں کی مسلسل تاخیر اور ایکسپریس ٹرینوں کو راستہ دینے کیلئے لوکل ٹرینوں کو روکے رکھنے کے باعث مسافروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سماجی تنظیموں کا شدید احتجاج، عوامی پارلیمنٹ کا انعقاد
اس کے علاوہ اسٹیشنوں پر اسکائی واک اور فٹ اوور برج کی تعمیر کا کام انتہائی سست رفتار ہے جبکہ ایسکلیٹر اور لفٹ بھیڑ بھاڑ کے اوقات میں اکثر خراب یا بند رہتی ہیں۔ مسافر ان تمام معاملات پر اعلیٰ حکام سے جواب چاہتے ہیں لیکن افسران کی عدم موجودگی نے ان کی مایوسی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ پروگرام کے لئے صبح ساڑھے ۱۰؍ سے ساڑھے ۱۱؍ بجے کا وقت رکھا گیا جس پر مسافر نمائندوں نے سخت اعتراض کیا۔
سبربن ریلوے پیسنجر اسوسی ایشن کی صدر لتا ارگڑے کے مطابق روزمرہ سفر کرنے والے مسافر صبح ۸ ؍بجے ہی اپنے کام کاج پر نکل جاتے ہیں۔اصل مسافروں کو نظر انداز کرکے ایسے وقت پروگرام رکھنا محض ایک دکھاوا تھا جبکہ اس کا انعقاد صبح ۸ ؍سے۱۰؍ بجے کے دوران کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اصل مسائل سامنے آ سکتے۔ کلیان۔ کسارا۔کرجت ریلوے پیسنجر اسوسی ایشن کے صدر راجیش گھنگھاؤ نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی غصے کے خوف سے ریلوے نے مسافروں کو اندھیرے میں رکھ کر یہ رسم نبھائی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر آئندہ اس طرح کے پروگرام خفیہ طور پر منعقد کئے گئے تو تنظیمیں ان کا مکمل بائیکاٹ کریں گی۔ دوسری جانب تھانے اسٹیشن پر بھی تھانے پیسنجر اسوسی ایشن کے صدر نندکمار دیشمکھ کی موجودگی میں شہریوں نے ریلوے اہلکاروں کے سامنے تیکھے سوالات رکھے۔