متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا،یوگیندر یادو، برندا کرات، عینی راجہ اور اندر جیت سنگھ سمیت مختلف سماجی و سیاسی اور کسان لیڈروں کی شرکت، جہاںروکا گیا وہیں بیٹھ کر احتجاج۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 11:15 AM IST | Fazil Ahmed | New Delhi
متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا،یوگیندر یادو، برندا کرات، عینی راجہ اور اندر جیت سنگھ سمیت مختلف سماجی و سیاسی اور کسان لیڈروں کی شرکت، جہاںروکا گیا وہیں بیٹھ کر احتجاج۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور ایس آئی آر کو فوراً منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں’’ہر گلی جنتر منتر ‘‘ نعرے کے ساتھ زبردست احتجاج ہوا۔ ان مظاہروں میں سول سوسائٹی اور کسانوں کی کئی تنظیموں نے حصہ لیا۔’’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘‘ کی کال پر جمعہ کو احتجاج کیا گیا۔دہلی میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹرس کی طرف مارچ کرنے والے کئی مظاہرین کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اس میں بڑی تعداد میںطلبہ، نوجوان، کسان اور سماجی کارکنان شامل تھے۔ مظاہرین نے ترنگا اور تنظیمی بینر اٹھا رکھے تھے۔ مارچ میں دہلی، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین پورے احتجاج کے دوران نعرے بازی کرتے رہے۔
احتجاج کے پیش نظر وسطی دہلی میں سکیوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات رہے۔ جب پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا تو انہوں نے سڑک پر بیٹھ کر ’’عوامی پارلیمنٹ‘‘ منعقد کی، جیسا کہ احتجاج کے منتظمین نے پہلے ہی اعلان کیا تھا۔ دہلی کے گول ڈاک خانہ، بھائی ویر سنگھ مارگ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو پولیس نے روکا اور تقریبا۱۵۰؍ سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ ان مظاہرین نے اسی جگہ بیٹھ کر عوامی پارلیمنٹ منعقد کی اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔اس دوران ایس آئی آر کے طریقہ کار، انتخابی فہرستوں سے اہل ووٹروں کے نام حذف ہونے اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی کے معاملے پر سوال اٹھائے گئے اور میمورنڈم بھی تیار کیا گیا جسے بعد میں پولیس کو سونپ دیا گیا تاکہ وہ الیکشن کمیشن تک اسے پہنچادے۔
یہ بھی پڑھئےؔ: اب انٹرنیٹ پر خوشبو بھیجنا بھی ممکن، سائنسدانوں کی نئی اور انوکھی ٹیکنالوجی
مارچ میں معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو، سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈرورندرا کرات، سی پی آئی کی لیڈر عینی راجہ، آل انڈیا کسان سبھا کے قومی نائب صدر اندر جیت سنگھ اور آر ٹی آئی کارکن انجلی بھاردواج سمیت مختلف سماجی و سیاسی اور کسان حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ آئیسا، ایس ایف آئی، کے وائی ایس اور ڈی وائی ایف آئی سے وابستہ افراد بھی مارچ میں شامل ہوئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر کا عمل روکا جائے، انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کی جائے اور ووٹروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔سماجی کارکن یوگیندر یادو نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹانے اور ایس آئی آر کا پورا عمل روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور الیکشن کمیشن کے دعوئوں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق انتخابی فہرستوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر میں بہت بڑی خامیاں ہیںجنہیں ختم کرنا بہت ضروری ہے تاکہ اہم ووٹرس ووٹ دے سکیں۔
برندا کرات نے کیا کہا ؟
سی پی آئی (ایم) کی سینئر رہنما برندا کرات نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تحریری طور پر یقین دہانی کرائے کہ ووٹ دینے کے حق اور آئین پر حملے بند ہوں گے، ایس آئی آر ختم کیا جائے گا اور گیانیش کمار استعفیٰ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے ان مطالبات پر حکومت کا واضح موقف سامنے آنا چاہئے۔ اس کے بغیر نہ یہ مظاہرہ رُکیں گے اور نہ احتجاج کا سلسلہ ختم ہو گا۔
عوامی پارلیمنٹ میں کیا ہوا ؟
پیپلز پارلیمنٹ‘ میں مظاہرین نے انتخابی فہرستوں سے اہل ووٹروں کے نام حذف ہونے کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے شکایات کی جانچ اور متاثرہ ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کہا کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ایس آئی آر کو رَد کردیا جانا چاہئے۔ احتجاج میں شامل لیڈروں نے ایس آئی آر کے خلاف مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا جبکہ کسان رہنماؤں نے تحریک کو دیہی علاقوں اور محلوں تک لے جانے پر زور دیا۔