• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈومبیولی: آوارہ کتے کےگلے میں پھندا ڈال کر لٹکا دیا!

Updated: October 06, 2026, 11:46 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli

وحشیانہ تشدد کے الزام میں سیکوریٹی گارڈ سمیت ۳ ؍افراد کے خلاف معاملہ درج۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

انسانیت کو شرمسار کر دینے والے واقعہ میں ایک آوارہ کتے کو پہلے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں اس کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے لٹکا دیا گیا۔ بے زبان جانور پر ڈھائے گئے اس وحشیانہ ظلم کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مان پاڑہ پولیس نے فوراً حرکت میں آتے ہوئے سیکوریٹی گارڈ سمیت ۳؍ افراد کیخلاف مختلف دفعات کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سنیچر کی شب جمخانہ روڈ پر واقع سریش کمپلیکس سوسائٹی کے احاطے میں موجود ایک آوارہ کتے کو پہلے پکڑ کر اس پر بے رحمی سے تشدد کیا گیا اور اسے شدید زخمی کر دیا گیا۔ ملزمین کا ظلم یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے مبینہ طور پر بے زبان جانور کے گلے میں رسی کا پھندا لگایا اور اسے پھانسی دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس پورے واقعہ کی موبائل فون سے ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی جس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل ہوتے ہی عوامی حلقوں میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بنگال میں۹۰؍ لاکھ نام حذف ہوگئے مگرسپریم کورٹ نے روک لگانے کی ضرورت نہیں محسوس کی‘‘

اینمل رائٹس ایکٹیوسٹ ہیر راجپوت کی جانب سے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مان پاڑہ پولیس حرکت میں آئی اور باقاعدہ ایف آئی آر درج کی گئی۔پولیس نے سوسائٹی کے ۲؍ مکینوں اومکار کیندرے، تشار کیندرے اور وہاں تعینات سیکوریٹی گارڈ پرکاش کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ ۳۲۵ ؍اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون کی دفعہ ۱۱(ایک)(اے) کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کلپ اور دیگر شواہد کو تحویل میں لےکر تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق سخت قدم اٹھایا جائے گا۔دوسری جانب مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ کتے نے علاقے کے کچھ افراد کو کاٹ لیا تھا جس کے باعث وہاں خوف کا ماحول تھا تاہم جانوروں سے محبت رکھنے والے افراد نے اس وحشیانہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK