سرکاری اسپتال میں داخل کئے جانے پر ڈاکٹروں نے شدید احتجاج کیا۔متاثر ڈاکٹر نے ملازمت سے استعفیٰ دیا اور شہر بھی چھوڑ دیا۔
سول اسپتال میںڈاکٹر احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں خاتون ڈاکٹر،دیگر ڈاکٹروں اور طبی عملے پر مبینہ تشدد کے خلاف ریاست کے طبی شعبہ میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔اگرچہ پولیس نے شیوسینا (شندے) کے کارپوریٹر رمیش مہاترے کو گرفتار کرلیا ہے لیکن گرفتاری کے فوراً بعد سینے میں درد کی شکایت پر انہیں سخت پولیس سیکوریٹی میں تھانے ضلع سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب اس واقعہ کے خلاف سول اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر ملازمین نے اپنے فرائض کے دوران بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر منفرد احتجاج ریکارڈ کرایا اور ملزم کارپوریٹر کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بدھ کی شام وشنو نگر پولیس اسٹیشن میں کیس درج ہونے کے بعد جب رمیش مہاترے کو حراست میں لیا گیا تو انہوں نے اچانک طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی جس پر انہیں فوری طور پر تھانے ضلع اسپتال لایا گیا۔ ملزم کارپوریٹر کے اسی اسپتال میں زیر علاج ہونے کے دوران وہاں کے مشتعل طبی عملے نے اسپتال کے احاطے میں جمع ہو کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈاکٹروں پر حملے بند کرو اور صحت کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرو جیسے نعرے درج تھے۔طبی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ ایک عوامی نمائندے کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینا اور ڈاکٹروں پر ہاتھ اٹھانا انتہائی شرمناک ہے لہٰذا انہیں اس عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔اس حساس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سول سرجن ڈاکٹر دھیراج ایس مہانگڑے نے کہا کہ بطور معالج ہم اپنے پیشے سے مخلص ہیں اور رمیش مہاترے کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جنہیں جلد ہی ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ادھر اس حملے کے نتیجے میں شدید خوف و ہراس کا شکار ہونے والے ڈاکٹر ویبھو سالونکے نے بالآخر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
متاثرہ ڈاکٹر نے انتہائی مایوسی اور شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان غنڈوں کا خوف ان کے دل میں اس قدر بیٹھ گیا ہے کہ وہ اب وہاں کبھی واپس نہیں جائیں گے۔اس پورے واقعہ نے میونسپل اسپتالوں میں ڈاکٹروں کے تحفظ اور سلامتی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ رمیش مہاترے اور ان کے حامیوں کی جانب سے کی گئی مار پیٹ کے بعد اسپتال کا عملہ شدید خوف کے سائے میں کام کر رہا ہے۔
اس ہولناک واقعہ کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے متاثرہ ڈاکٹر ویبھو نے بتایا کہ اس وقت وہاں خوف کا ایک شدید ماحول بن چکا ہے۔ غنڈہ گردی کرنے والے عناصر ہم پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایسے لوگ انتہائی خطرناک ہیں۔ اسی وجہ سے مجبوراً میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور شہر بھی چھوڑ دیا ہے۔