۲۰۲۰ء میں ۴؍ بھائی بہنوں کا قتل کرنے والے حیوان کو قتل کیلئے بھی پھانسی کی سزا دی گئی اور عصمت دری کیلئے بھی۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 10:26 AM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
۲۰۲۰ء میں ۴؍ بھائی بہنوں کا قتل کرنے والے حیوان کو قتل کیلئے بھی پھانسی کی سزا دی گئی اور عصمت دری کیلئے بھی۔
جلگاؤں:(شرجیل قریشی)جلگاؤں ضلع کے راویر تعلقہ میں واقع بورکھیڑا میں ۲۰۲۰ء میں ۴؍ بہن بھائیوں کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا جن کی عمریں ۱۳؍ ۱۱؍ ۸؍ اور ۳؍ سال تھی۔ اس معاملے میں بھساول ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ملزم مہندر سیتارام بریلا کو دہری پھانسی کی سزا سنائی ہے جو ایک تاریخی فیصلہ ہے۔
اطلاع کے مطابق مہتاب بھلالا اپنی بیوی رومل اور ۵؍ بچوں کے ساتھ بورکھیڑا گائوں میں مصطفٰی شیخ نامی شخص کے کھیت رہا کرتا تھا۔ دن بھر یہ لوگ کھیت مزدوری کرتے اور رات میں کھیت کی رکھوالی کیلئے وہیں سو جاتے۔ ۱۵؍ اکتو بر ۲۰۲۰ء کو یہ دونوں اپنے سب سے چھوٹے بچے کو لے کر مدھیہ پردیش میں اپنے آبائی گاؤں گئے ہوئے تھے۔ باقی چاروں بچے سائتا(۱۳) راول (۱۱) انل (۸) اور سمن (۳) کھیت کے جھوپڑے میں ہی تھے۔ اگلی صبح جب فارم کے مالک نے ان ۴؍ بچوں کی خون میں لت پت لاشیں دیکھیں اور پولیس کو اطلاع دی ۔ بیک وقت چار قتل سے ریاست بھر میں ہلچل مچ گئی تھی۔بطور استغاثہ اس معاملے کا مقدمہ لڑنے والے ایڈوکیٹ اجول نکم نے بتایا کہ’’ ملزم مہندر بریلانےسب سے بڑی لڑکی( جو کہ نابالغ تھی) کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی اور ثبوت مٹانے کیلئے اس کے ساتھ کے دیگر ۳؍ بہن بھائیوں کو بھی قتل کر دیا تھا۔مقدمے کی سماعت کے دوران کل ۲۷؍ گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ پولیس کی جانب سے پیش کئے گئے مضبوط شواہد، گواہوں کے بیانات اور استغاثہ کے دلائل کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔ اجول نکم نے کہا کہ ’’ قتل اور عصمت دری کیلئے الگ الگ پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔‘‘ واضح رہے کہ معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے اس مقدمے کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کرنے کی ہدایت جاری کی تھی اور ایڈوکیٹ اجول نکم کو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا تھا۔ اجول نکم نے یہ بھی بتایا کہ سزائے موت کی قانونی توثیق کیلئے کیس کا مکمل ریکارڈ ہائی کورٹ میں جمع کروایا جائے گا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے اس سزا کی توثیق کے بعد قانونی کارروائیاں مکمل ہو جائیں گی۔