Updated: June 05, 2026, 11:10 AM IST
| New York
مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے جہاں دنیا کو نئی سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں اس کے ماحولیاتی اثرات پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق آنے والے برسوں میں اے آئی بجلی، پانی اور زمین کے وسائل پر غیر معمولی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
انسانوں نے بظاہر مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے ذریعے اپنے ہی لئے مشکلات پیدا کر لی ہیں، کیونکہ ایک نئی تحقیق کے مطابق آنے والے چند برسوں میں یہ ٹیکنالوجی ماحولیات پر بہت بڑا بوجھ ڈالے گی۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۳۰ء تک اے آئی کو چلانے کیلئے دنیا کی مجموعی بجلی کا تقریباً۳؍ فیصد درکار ہوگا۔ اس سے پیدا ہونے والی کاربن گیسوں کا اخراج اتنا ہوگا جتنا۲۰۲۵ء میں برطانیہ کا تھا، جبکہ الیکٹرانک کچرے کی مقدار ہر سال۲۵۰؍ ایفل ٹاورز کے برابر ہوگی۔ سب سے تشویشناک بات پانی کے استعمال سے متعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی کو اتنا پانی درکار ہوگا جو پوری دنیا کے ہر انسان کی ڈیڑھ سال سے زیادہ مدت تک پیاس بجھا سکتا ہے۔ یہ مستقبل کی ایک نہایت خوفناک تصویر ہے جو اقوام متحدہ کے یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ برائے واٹر، انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ نے پیش کی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ کاربن اخراج صرف ایک پہلو ہے؛ اے آئی کے ماحول پر اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں، اور ان نقصانات کو کم کرنا صرف کاربن کے اخراج کو کم کرنے تک محدود نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے:’’کم کاربن ہونا لازمی طور پر کم پانی یا کم زمین استعمال کرنے کے مترادف نہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا: بلدیاتی انتخابات میں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت
۲۰۲۵ءمیں ڈیٹا سینٹرز نے تقریباً۴۴۸؍ ٹیراواٹ آور (TWh) بجلی استعمال کی، جس میں اے آئی کے عمل تقریباً ۲۰؍فیصد کے ذمہ دار تھے۔ ۲۰۳۴ء تک اے آئی سے متعلق بجلی کا استعمال۴۰؍ فیصد یا۳۷۴؍ٹیراواٹ آور تک پہنچ سکتا ہے۔
۲۰۲۵ءمیں اے آئی نے۹ء۳؍ کھرب لیٹر پانی استعمال کیا
ڈیٹا سینٹرز چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن کام کرتے ہیں اور اپنے سسٹمز کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے بے پناہ مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ان کی مجموعی بجلی کی کھپت بڑھ کر۹۴۵؍ٹیراواٹ آور تک پہنچ سکتی ہے، جو افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوبی حصے (Sub-Saharan Africa) میں ۱ء۳؍ ارب افراد کو پانچ سال سے زیادہ عرصے تک بجلی فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔ پانی کا استعمال، جو پہلے ہی ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ ایک بڑا مسئلہ ہے، مزید بڑھ جائے گا۔ ۲۰۲۵ء میں ان مراکز نے تقریباً۹ء۳؍ کھرب لیٹر پانی استعمال کیا۔ یہ مقدار اتنی ہے کہ دنیا کے۸ء۱؍ ارب افراد کی ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے تک ضروریات پوری کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی ترسیل کا معاملہ: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیڈایکس کے خلاف شکایت درج کرائی
چیٹ جی پی ٹی کتنی بجلی استعمال کرتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے روزانہ استعمال کی ماحولیاتی لاگت اب اس کی تربیت (Training) کی لاگت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی۔ ۵؍ جیسے ماڈل کی تربیت کیلئے تقریباً:
۱۰۰؍ گیگاواٹ آور بجلی،
ایک ارب لیٹر پانی،
اور۲۱۵؍ فٹ بال میدانوں کے برابر زمین درکار ہوتی ہے۔ تاہم، روزانہ تقریباً۲ء۵؍ ارب پرامپٹس (Prompts) کی وجہ سے اس کا مجموعی استعمال ان اعداد و شمار سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ محققین نے پایا کہ اگر چیٹ جی پی ٹی مختصر جواب دینے والا موڈ اختیار کرے تو اس کے جوابوں کی لمبائی۳۰؍ فیصد تک کم ہو سکتی ہے، جس سے اتنی بجلی بچائی جا سکتی ہے جو صحرائے اعظم کے جنوبی افریقہ میں تقریباً۷؍ لاکھ۶۰؍ہزار افراد کی سالانہ ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہو۔ ’’Please‘‘ اور’’Thank You‘‘ جیسے الفاظ کے استعمال سے گریز بھی توانائی کی بچت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سبز توانائی (Green Energy) اپنانے سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، سب سے بڑا مسئلہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز ہیں۔