• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دبئی: حافظ ڈیلیوری رائیڈر کا قرآن پڑھتے ہوئے ویڈیو وائرل، انعام سے نوازا گیا

Updated: September 30, 2026, 10:19 PM IST | Dubai

دبئی میں نائجیرین حافظ ڈیلیوری رائیڈر کی رات کی شفٹ کے دوران قرآن پڑھتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوگئی، رائیڈر نے قرآن پاک رکھنے کے لیے ایک چھوٹا لکڑی کا باکس خاص طور پر بنوا کر لگایا تھا، جیسے ہی وہ ڈیلیوری کا کام ختم کرتا، انجن بند کرتا، باکس کھولتا اور قرآن شریف نکال کر تلاوت میں مشغول ہو جاتا۔

A still from the viral video of the Hafiz delivery rider. Photo: X
حافظ ڈیلیوری رائیڈر کی وائرل ویڈیو سے لی گئی تصویر۔ تصویر: ایکس

 دبئی میں دیر رات کی تھکا دینے والی شفٹ کے خاموش لمحات میں، اسمارٹ فون اسکرین کی چمک کا عام طور پر ایک ڈیلیوری رائیڈر کے لیے ایک ہی مطلب ہوتا ہے، نیا آرڈر، جی پی ایس ٹائمر کے خلاف دوڑ۔ لیکن شہر کی روشن گلیوں میں گھومنے والے ایک نوجوان نائجیرین تارک وطن کے لیے، آدھی رات کی ڈیوٹی کے درمیان کا وقت عبادت کی جگہ بن گیا، ایک ایسی عادت جس نے اب دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

یہ رائیڈر، جو متحدہ عرب امارات کے مسابقتی لاجسٹک سیکٹر میں رات کی مشکل شفٹوں میں کام کرتا ہے، ستمبر۲۰۲۶ء کے آخر میں ایک وائرل ویڈیو سامنے آنے کے بعد عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ تقریباً رات۲؍ بجے ایک راہگیر نے اسے اپنی موٹر سائیکل کے پاس خاموشی سے کھڑے قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے ریکارڈ کیا۔ویڈیو کو وائرل بنانے والی چیز اس کی بائیک پر ایک منفرد ترمیم تھی۔ نیویگیشن ایپ کے لیے استعمال ہونے والے موبائل ہولڈر کے بالکل ساتھ، رائیڈر نے قرآن پاک رکھنے کے لیے ایک چھوٹا لکڑی کا باکس خاص طور پر بنوا کر لگایا تھا۔ جیسے ہی وہ ڈیلیوری کا کام ختم کرتا، وہ انجن بند کرتا، باکس کھولتا اور قرآن شریف نکال کر تلاوت میں مشغول ہو جاتا۔
جب یہ کلپ ایکس اور انسٹاگرام پر لاکھوں ویوز کے ساتھ پھیلا، تو اس کی لگن کے پیچھے کی کہانی سامنے آئی۔ جب راہگیروں اور حکام نے پوچھا کہ وہ آسان موبائل ایپ کے بجائے قرآن کا نسخہ کیوں رکھتا ہے، تو اس کا جواب دل کو چھو گیا۔رائیڈر نے کہا، ’’میں حافظ قرآن ہوں، اور میں ہر سال رمضان کی تراویح میں باقاعدگی سے قرآن سناتا ہوں۔ اگر میں موبائل اسکرین دیکھ کر پڑھوں گا تو مجھے صحیح یاد نہیں رہے گا۔ میں نے قرآن فون سے حفظ نہیں کیا، میں نے صفحے سے حفظ کیا ہے۔‘‘رائیڈر نے بتایا کہ تھکا دینے والی جسمانی ملازمت کے ساتھ حافظ کی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی ذہنی نظم و ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔اس نے بتایا،’’میں کام کے دوران ہر روز۱۰؍ پارے تک پڑھتا اور دہراتا ہوں،میں یہ مسلسل کرتا ہوں تاکہ اللہ کا کلام میرے دل میں محفوظ رہے اور میں جو یاد کیا ہے اسے کبھی نہ بھولوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بچوں کا ہیکاتھون، دستیاب سامان سے خطرناک عمارتوں کی جانچ کیلئے روبوٹ تیار

زندگی بدلنے والا اعتراف
عوامی پذیرائی کی لہر جلد ہی مقامی حکومت کے اعلیٰ حکام تک پہنچ گئی۔ اس کی دیانتداری، محنت اور خاموش روحانی نظم و ضبط کو تسلیم کرتے ہوئے، دبئی کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ٹریفک نے نوجوان کو اپنے ہیڈکوارٹر بلایا۔اس کے کردار کے اعزاز میں ایک تقریب میں، حکام نے رائیڈر کو ۵۰؍ ہزار درہم کا انعام پیش کیا۔آدھی رات کی گرمی میں تھوڑی تھوڑی کمائی کرنے والے ایک مزدور کے لیے یہ انعام ایک بڑا اعزازتھا۔ اس واقعے نے متحدہ عرب امارات کی اپنے تارکین وطن مزدور طبقے کے وقار اور پوشیدہ خوبیوں کو تسلیم کرنے اور انہیں نوازنے کی روایت کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK