جنگ سے تباہ علاقے میں نوجوان موجد سادہ پرزوں سے روبوٹ اور دیگر آلات بنا رہے ہیں، مقصد ملبے اور خستہ عمارتوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے اور روزمرہ مشکلات کم کرنا ہے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 10:13 PM IST | Gaza
جنگ سے تباہ علاقے میں نوجوان موجد سادہ پرزوں سے روبوٹ اور دیگر آلات بنا رہے ہیں، مقصد ملبے اور خستہ عمارتوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے اور روزمرہ مشکلات کم کرنا ہے۔
جنگ اور تباہی کے درمیان غزہ کے بچوں اور نوجوانوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو عملی حل میں تبدیل کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ غزہ سٹی میں منعقدہ نوجوانوں کے ہیکاتھون میں کم وسائل کے باوجود شرکا ایسے روبوٹ اور دیگر آلات تیار کررہے ہیں جن کا مقصد خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لینا، معذور افراد کی مدد کرنا اور جنگ سے متاثرہ علاقے میں روزمرہ زندگی کی مشکلات کم کرنا ہے۔ ہیکاتھون میں شریک نوجوانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج جدید آلات کی عدم دستیابی ہے۔ جنگ کے باعث غزہ کا ٹیکنالوجی اور اختراع کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ بجلی کی مسلسل کمی اور ضروری برقی پرزوں کی قلت نے روبوٹکس اور پروگرامنگ کی تعلیم کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود نوجوان دستیاب تاروں، سینسرز، موٹروں، برقی تختیوں اور دیگر محدود سامان کو ملا کر اپنے نمونے تیار کررہے ہیں۔
Gaza Youth Turn Innovation Into Hope
— torchlightnews (@torchlightnews_) September 28, 2026
More than 100 young innovators in Gaza City are showcasing over 45 projects, including robots designed to inspect damaged buildings and assist the elderly, alongside smart farming and water-treatment solutions.
Despite frequent power outages… pic.twitter.com/JacbSIr349
ان منصوبوں میں خطرناک عمارتوں کی جانچ کے لیے روبوٹ خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ جنگ کے دوران بڑی تعداد میں عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں اور ان میں سے بعض کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہیں۔ ایسے حالات میں کسی انسان کو اندر بھیجنے کے بجائے ایک چھوٹا روبوٹ عمارت کے اندر داخل ہوکر اس کی صورت حال کا ابتدائی جائزہ لینے، خطرناک حصوں کی نشاندہی کرنے یا ممکنہ طور پر پھنسے افراد تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے۔یہ ضرورت محض مستقبل کا مسئلہ نہیں رہی۔ ۱۶؍ ستمبر کو غزہ سٹی میں ۶؍ منزلہ السعادہ عمارت منہدم ہوگئی تھی۔ عمارت جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصان سے کمزور ہوچکی تھی اور اس میں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ فلسطینی تنظیم سیف کے مطابق حادثے میں ۲۱؍ افراد ہلاک اور ۴۵؍ زخمی ہوئے، جبکہ غزہ کی متعلقہ وزارت کے مطابق تقریباً ۳؍ ہزارعمارتیں خطرناک یا منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار قرار دی گئی ہیں۔
نوجوان موجدوں کے منصوبے صرف عمارتوں تک محدود نہیں۔ بعض آلات معذور افراد کی مدد اور روزمرہ زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار کیے جارہے ہیں۔ ہیکاتھون کا بنیادی تصور یہ ہے کہ دستیاب وسائل کو استعمال کرکے ایسے سستے اور مقامی حل تیار کیے جائیں جنہیں غزہ کے موجودہ حالات میں عملی طور پر استعمال کیا جاسکے۔ یہ سرگرمی غزہ میں روبوٹکس کی تعلیم کی جاری کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ اس سے پہلے دیر البلح میں بچوں کے لیے ’نیکسٹ جن‘ منصوبے کے تحت روبوٹکس اور ابتدائی انتباہی نظام کی تربیت شروع کی گئی تھی۔ طلبہ کو سینسرز، موٹرز اور پروگرامنگ کے بنیادی اصول سکھائے جارہے ہیں اور انہیں ایسے نظام بنانے کی مشق کرائی جارہی ہے جو آگ یا گیس کے اخراج کا ابتدائی انتباہ دے سکیں یا ملبے میں پھنسے افراد تک امدادی ٹیموں کی رسائی میں مدد کریں۔
یہ بھی پڑھئے: انتہا پسند اسرائیلی وزیربین گویرکا سیکڑوں یہودیوں کے ہمراہ مسجد ابراہیمی پردھاوا
۱۶؍ سالہ حمزہ الاطراش بھی اس تربیتی پروگرام میں شامل ہے۔ وہ ایک قابلِ پروگرام برقی تختی اور چند دستیاب برقی پرزوں کی مدد سے روبوٹ اور ابتدائی انتباہی نظام تیار کرنے کی مشق کررہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آلات اور وسائل کی کمی انہیں رکنے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ دستیاب سادہ سامان سے نئے حل تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ جنگ سے پہلے غزہ میں ٹیکنالوجی کے کئی تربیتی مراکز، جامعات، کاروباری منصوبوں کی معاونت کرنے والے مراکز اور اختراعی پروگرام موجود تھے۔ جنگ کے دوران ان میں سے بہت سے مراکز تباہ یا متاثر ہوئے، جس سے نوجوانوں کے لیے جدید آلات تک رسائی اور عملی تجربات کے مواقع محدود ہوگئے۔ تربیتی منصوبوں سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس کے باوجود روبوٹکس میں نوجوانوں کی دلچسپی برقرار ہے اور دستیاب محدود وسائل سے سیکھنے کا عمل جاری ہے۔
غزہ میں تعلیم اور نوجوانوں کی تربیت بحال کرنے کی دوسری کوششیں بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے مئی ۲۰۲۶ء میں بتایا تھا کہ تعلیم کی بحالی کے لیے غزہ کے ۱۰؍ اسکولوں میں ۱۰۰؍ عارضی تعلیمی مراکز کی تعمیر مکمل کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگ سے متاثرہ بچوں کے لیے دوبارہ محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا تھا۔ حالیہ سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کے نوجوان محدود وسائل کے باوجود ٹیکنالوجی کو محض تعلیم کے ایک مضمون کے طور پر نہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود عملی مسائل کے حل کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے روبوٹ ابھی ابتدائی نمونے ہیں، لیکن ان کا استعمال خطرناک عمارتوں، ملبے، معذوری اور روزمرہ سہولتوں جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے سوچے گئے مقامی حل میں کیا جارہا ہے۔