USCIRF نے دہلی فسادات کیس میں طویل زیرِ سماعت حراست پر تشویش ظاہر کی، نئی دہلی نے اس تازہ بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 6:59 PM IST | Washington
USCIRF نے دہلی فسادات کیس میں طویل زیرِ سماعت حراست پر تشویش ظاہر کی، نئی دہلی نے اس تازہ بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے ہندوستان میں سخت گیر انسدادِ دہشت گردی قانون غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (UAPA) کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ امریکہ سے کہا ہے کہ وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ مل کر ایسے قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کرے جنہیں کمیشن مذہبی آزادی یا عقیدے سے متعلق قیدی قرار دیتا ہے۔ کمیشن نے خاص طور پر عمر خالد اور شرجیل امام کا ذکر کیا، جو ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں UAPA کے تحت زیرِ سماعت ہیں۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے یہ بیان برطانوی نژاد سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد ۲۴؍ ستمبر کو جاری کیا۔ کمیشن کے مطابق جوہل کو ۲۰۱۷ء میں قتل اور دہشت گردی سے متعلق الزامات میں UAPA کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تقریباً ۹؍ سال سے حراست میں رہے۔ کمیشن نے ان کی ضمانت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ سے کہا کہ وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ ایسے دیگر افراد کے معاملات بھی اٹھائے جنہیں USCIRF مذہبی آزادی یا عقیدے سے متعلق قیدی سمجھتا ہے۔
PRESS RELEASE: India Continues to Weaponize Terrorism Laws to Detain Religious Minorities https://t.co/wNG7eexD30
— USCIRF (@USCIRF) September 24, 2026
یو ایس سی آئی آر ایف کی نائب چیئرپرسن سی سی ہیل نے عمر خالد اور شرجیل امام کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ دونوں ’’پرامن احتجاج میں حصہ لینے‘‘ کے باعث UAPA کی مبینہ خلاف ورزیوں کے مقدمات میں طویل عرصے سے زیرِ حراست ہیں۔ کمیشن نے اس صورتِ حال کو مذہبی اقلیتوں کو خاموش کرانے یا قید کرنے کے ایک بڑے رجحان سے جوڑا۔ یہ کمیشن کا مؤقف ہے؛ ہندوستانی حکومت نے ماضی میں USCIRF کی ایسی تشریحات کو مسترد کرتے ہوئے اسے جانبدار اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف مقدمہ فروری ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ہے، جس میں ۵۳؍ افراد ہلاک اور ۷۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ متعدد کارکنوں اور دیگر افراد نے ان واقعات کے پیچھے ایک بڑی سازش میں کردار ادا کیا۔ ملزمان ان الزامات سے اختلاف کرتے رہے ہیں، جبکہ مقدمے کی سماعت ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچی جہاں الزامات کا حتمی عدالتی فیصلہ سامنے آئے۔ مقدمے میں UAPA کی دفعات بھی شامل ہیں، جس کی وجہ سے ضمانت کے لیے قانونی معیار عام فوجداری مقدمات کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ کے مواد سے بادی النظر میں دونوں کا مبینہ سازش میں منصوبہ بندی، متحرک کرنے اور ’’اسٹریٹجک سمت‘‘ دینے کی سطح پر کردار ظاہر ہوتا ہے۔ عدالت نے UAPA کی دفعہ 43D(5) کے تحت ضمانت کی پابندی کو بھی اپنے فیصلے میں ملحوظ رکھا۔ یہ عدالت کا بادی النظر جائزہ تھا، حتمی مجرمانہ فیصلہ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یو این: ۱۲؍ ممالک کی سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستوں کی مخالفت
دوسری جانب اسی مقدمے میں سپریم کورٹ نے جنوری میں گلفشاں فاطمہ، میراں حیدر، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دی تھی۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ ان افراد کو ضمانت ملنے کا مطلب الزامات کی سنگینی یا مقدمے کے حتمی نتیجے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہے۔ اس طرح عمر خالد اور شرجیل امام کی قانونی صورتحال مقدمے کے دیگر ملزمان سے مختلف رہی ہے۔ تازہ صورتِ حال میں شرجیل امام کو ۲۲؍ ستمبر کو دہلی کی کرکرڈوما عدالت نے ۷؍ روز کی عبوری ضمانت دی ہے تاکہ وہ اپنے 2 کزنز کی شادیوں میں شرکت کرسکیں۔ یہ ضمانت ۴؍ سے ۱۰؍ اکتوبر تک مؤثر ہوگی۔ عدالت نے ۵۰؍ ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ایک ضمانت طلب کی ہے، جبکہ انہیں مقدمے سے متعلق کسی گواہ یا شخص سے رابطہ کرنے، سوشل میڈیا استعمال کرنے اور خاندان کے علاوہ دیگر افراد سے ملاقات کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہیں ۱۰؍ اکتوبر کی شام جیل حکام کے سامنے واپس پیش ہونا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی معیشت دنیا کی تاریخ کے سب سے شدید بحران میں داخل: اقوام متحدہ کی رپورٹ
شرجیل امام کی مستقل ضمانت کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ میں ۳۰؍ ستمبر کو سماعت مقرر ہے۔ عدالت نے ۲۱؍ ستمبر کو استغاثہ کی درخواست پر سماعت ملتوی کی تھی، کیونکہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو اس دن پیش نہیں ہوسکے تھے۔ عمر خالد کی ضمانت کی درخواست بھی اسی معاملے میں ۳۰؍ ستمبر کو زیرِ سماعت آئے گی۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے ہندوستان کے بارے میں اپنی ۲۰۲۶ء سالانہ رپورٹ میں بھی مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی تھی اور امریکی محکمہ خارجہ سے ہندوستان کو ’’Country of Particular Concern‘‘ قرار دینے کی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے ۲۴؍ ستمبر کے تازہ بیان میں اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی یا عقیدے سے متعلق قیدیوں کے معاملات میں واشنگٹن کو ہندوستانی حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔ USCIRF ایک امریکی سرکاری کمیشن ہے جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لے کر امریکی حکومت کو پالیسی سفارشات دیتا ہے؛ اس کی سفارشات خود بخود امریکی حکومت کی پالیسی نہیں بن جاتیں۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی مفتی اعظم کی حوثیوں کے خلاف فوجیوں کو متحد رہنے کی ہدایت
ہندوستانیحکومت ماضی میں USCIRF کی رپورٹس اور سفارشات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے مارچ ۲۰۲۶ء میں کمیشن کی سالانہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ USCIRF ہندوستان کی ’’مسخ شدہ اور منتخب تصویر‘‘ پیش کرتا ہے اور اس کے جائزے ’’جانبدار‘‘ ہیں۔ نئی دہلی نے UAPA کو قومی سلامتی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری قانونی ذریعہ قرار دیا ہے۔ 24 ستمبر کے تازہ USCIRF بیان پر ہندوستانی حکومت کا کوئی نیا باضابطہ ردعمل دستیاب نہیں ہوا۔