Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک کے کئی ریلوے اسٹیشنوں پر پینے کے پانی میں ای۔ کولائی (E. Coli) بیکٹیریا پایا گیا: کیگ رپورٹ

Updated: August 17, 2026, 9:06 PM IST | New Delhi

جنوبی ریلوے ریجن کے کوئمبٹور اور پالکاڈ جنکشن، جنوب مرکزی ریلوے کا حیدرآباد اسٹیشن، سینٹرل ریلوے کے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس، بھیونڈی روڈ، کلیان اور لوناولا نیز مشرقی ریلوے کے مدھوپور اسٹیشن پر آلودہ پانی پایا گیا۔ واضح رہے کہ ای۔ کولائی کی آلودگی، پانی میں فضلے کی موجودگی کی نشان دہی کرتی ہے اور یہ فوڈ پوائزننگ، اسہال (ڈائریا) اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن (یو ٹی آئی) سمیت مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر کے متعدد ریلوے اسٹیشنوں کے واٹر کولرز سے لئے گئے پانی کے نمونوں میں ای۔ کولائی (E. Coli) بیکٹیریا پایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیکٹیریا عام طور پر انسانوں اور جانوروں کے فضلے میں موجود ہوتا ہے۔ 

سی اے جی (کیگ) نے ۵ اگست کو جاری کردہ اپنی رپورٹ بعنوان ”ہندوستانی ریلویز میں نان سب اربن ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کی سہولیات و صفائی ستھرائی“ میں بتایا کہ جانچ کئے گئے ۴۹ ریلوے اسٹیشنوں میں سے ۸ اسٹیشنوں کے پینے کے پانی کے نمونوں میں یہ بیکٹیریا پایا گیا۔ ان میں ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کے تین ریلوے اسٹیشنز بھی شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مودی کے بیان کا طنزیہ جواب، انسٹا پر’دماغی نکسل پارٹی‘ کے۲؍ لاکھ سے زائد فالوورز

جنوبی ریلوے ریجن کے کوئمبٹور اور پالکاڈ جنکشن، جنوب مرکزی ریلوے کا حیدرآباد اسٹیشن، سینٹرل ریلوے کے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس، بھیونڈی روڈ، کلیان اور لوناولا نیز مشرقی ریلوے کے مدھوپور اسٹیشن پر آلودہ پانی پایا گیا۔ واضح رہے کہ ای۔ کولائی کی آلودگی، پانی میں فضلے کی موجودگی کی نشان دہی کرتی ہے اور یہ فوڈ پوائزننگ، اسہال (ڈائریا) اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن (یو ٹی آئی) سمیت مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا کہ آڈٹ کئے گئے تمام ۴۹ اسٹیشنوں کے پلیٹ فارمز پر نصب نلکوں سے حاصل کئے گئے پینے کے پانی کے نمونوں میں ای۔ کولائی سمیت ٹوٹل کالی فارم (total coliform) بیکٹیریا موجود تھے۔ مٹی اور انسان یا جانوروں کے فضلے میں پایا جانے والا ٹوٹل کالی فارم پانی کی فراہمی میں صفائی ستھرائی کی سطح کے اشارے کے طور پر کام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شرجیل امام اور عمر خالد کی قید ِمسلسل کیخلاف چیف جسٹس کو ممتاز شخصیات کا کھلا خط

ٹوٹل کالی فارم کے علاوہ دیگر پیرامیٹرز پر کئے گئے بیکٹیریا کے ٹیسٹوں نے ۲۳-۲۰۲۲ء میں چار زونز کے ۸ اسٹیشنوں پر اور ۲۴-۲۰۲۳ء میں پانچ زونز کے ۱۱ اسٹیشنوں پر غیر تسلی بخش نتائج دیئے تھے۔ ۱۷۹ اسٹیشنوں پر ہیلتھ انسپکٹرز نے پینے کے پانی کا کوئی کیمیائی ٹیسٹ بالکل نہیں کروایا جبکہ ۷۷ اسٹیشنوں پر سال میں دو بار کی مقررہ مدت کے مطابق ٹیسٹ نہیں کئے گئے۔

وزارتِ ریلوے نے ستمبر میں سی اے جی کو دیئے گئے جواب میں بتایا تھا کہ ٹیسٹنگ کے تعدد اور غیر تسلی بخش نتائج سے متعلق آڈٹ کے انکشافات کی بنیاد پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم، کیگ نے نوٹ کیا کہ متعدد مقامات پر بار بار آنے والے غیر تسلی بخش ٹیسٹ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسافروں کیلئے محفوظ پینے کا پانی یقینی بنانے کیلئے ریلوے کو زیادہ مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راجستھان: اسکول کی چھت گرنے کے بعد طلبہ کا احتجاج، سی جے پی کی شمولیت

رپورٹ میں مزید پایا گیا کہ آڈٹ کئے گئے ۵۱۲ اسٹیشنوں میں سے ۴۵۸ اسٹیشنوں میں پینے کے پانی، بیت الخلا اور بیٹھنے جیسی ”کم از کم ضروری سہولیات“ کا فقدان تھا، حالانکہ ریلوے بورڈ نے ۳۱ اگست ۲۰۱۸ء تک تمام اسٹیشنوں پر ان سہولیات کی فراہمی کو لازمی قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں نشان دہی کی گئی کہ زیادہ آمدنی اور بھاری بھیڑ والے این ایس جی-۱ سے این ایس جی-۳ کے اسٹیشنوں میں بھی ان معیارات کو پورا کرنے میں بڑی کمیاں دیکھی گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK