سوریہ کانت کو سویڈن کا وہ لیکچر یاد دلایا جس میں انہوں نے۶؍ سال کی قید کے خلاف ’کے اے نجیب‘ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 17, 2026, 10:05 AM IST | Agency | New Delhi
سوریہ کانت کو سویڈن کا وہ لیکچر یاد دلایا جس میں انہوں نے۶؍ سال کی قید کے خلاف ’کے اے نجیب‘ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا۔
ملک کی ۱۰۰؍ سے زائد اہم شخصیات جن میں سماجی کارکن، مصنّفین، فلم سازاور ماہرین تعلیم شامل ہیں، نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو ایک کھلا خط لکھ کر عمر خالد اور شرجیل امام کی قید ِ مسلسل کی طرف توجہ دلائی ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں نوجوان شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے بعد ۲۰۲۰ء کے دہلی فساد کے ’’وسیع تر سازش‘‘ کیس میں ملزم بنا دیئے گئے۔ان پر یواے پی اے کے تحت الزامات عائد ہیں۔دونوں ۶؍ سا ل سے پابند سلاسل ہیں اوران کے مقدمات کی شنوائی تک شروع نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’اسکول ٹھیک کرو مہم‘ کوملک گیرحمایت
اروندھتی رائے، رام چندر گوہا اور امیتو گھوش سمیت متعدد معروف شخصیات کے دستخط کے ساتھ جاری کئے گئے خط میں دونوں نوجوانوں کی طویل قید پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یو اے پی اے کا استعمال انہیں غیر معمولی طور پر طویل عرصے تک بغیر ٹرائل کے حراست میں رکھنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔خط لکھنے والوں نے چیف جسٹس کو سویڈن میں دیا گیا ان کا حالیہ لیکچر یاد دلایا ہے جس میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ’’یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب‘‘ کیس کے فیصلے کا ذکر کیا تھا۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت تقریباً ۶؍برس سے بغیر ٹرائل جیل میں بند ایک ملزم کو ضمانت دی تھی۔دستخط کنندگان نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ’ ’کے اے نجیب‘‘ فیصلے میں سپریم کورٹ نے جو اصول وضع کیا ہے اس کا اطلاق عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں بھی بلا امتیاز کیا جانا چاہئے۔