Inquilab Logo Happiest Places to Work

E20 پیٹرول تنازع: نتن گڈکری ٹرول، صارفین نے ’’دیسی ایلون مسک‘‘ قرار دیا

Updated: July 15, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری کے ایک حالیہ انٹرویو نے E20 پیٹرول اور گاڑیوں کی مائلیج سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ گڈکری نے کہا کہ گاڑی کا اصل مائلیج ڈیش بورڈ سے نہیں بلکہ صرف کمپنی کے مجاز ڈیلر کے پاس موجود خصوصی مشین سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایتھنول کی کیلوری ویلیو پیٹرول سے کم ہونے کے باعث مائلیج میں کچھ کمی آ سکتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے انجن کو نقصان پہنچنے کا کوئی مصدقہ ثبوت وزارت کے پاس موجود نہیں۔ ان کے بیان کے بعد صارفین نے انہیں ’’دیسی ایلون مسک‘‘ قرار دیا۔

Nitin Gadkari. Photo: INN
نتن گڈکری۔ تصویر: آئی این این

مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہ نتن گڈکری نے E20 پیٹرول کے استعمال سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی کا اصل مائلیج عام طریقوں سے نہیں بلکہ صرف کمپنی کے مجاز ڈیلر کے پاس موجود خصوصی مشین کے ذریعے جانچا جا سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے اور صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ نتن گڈکری نے پیر کو اے بی پی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کم مائلیج، گاڑیوں کو ممکنہ نقصان اور ایتھنول ملاوٹ والے ایندھن کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایتھنول کی کیلوری ویلیو پیٹرول کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مائلیج میں کچھ فرق آنا فطری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شہر میں ٹریفک اور کم رفتار پر گاڑی چلانے کے دوران اس فرق کا اثر بہت کم محسوس ہوتا ہے، جبکہ ہائی وے پر مسلسل رفتار سے سفر کے دوران مائلیج میں کمی نسبتاً زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔

انٹرویو کے دوران صحافی نے بتایا کہ ان کی ۲۰۲۳ء ماڈل ہونڈا سٹی کار کا مائلیج ۱۱؍ کلومیٹر فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً ۷؍ کلومیٹر فی لیٹر رہ گیا ہے، جس کا انہوں نے تعلق E20 پیٹرول کے استعمال سے جوڑا۔ جب گڈکری نے پوچھا کہ یہ مائلیج کیسے معلوم کیا گیا تو صحافی نے بتایا کہ انہوں نے گاڑی کے ڈیش بورڈ پر ظاہر ہونے والے اعداد و شمار پر انحصار کیا تھا۔ اس پر گڈکری نے کہا کہ ’’آپ اور میں مائلیج چیک نہیں کر سکتے۔ ایک کار کا مائلیج صرف کمپنی کے مجاز ڈیلر کی مشین سے ہی چیک کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر شدید بحث کو جنم دیا۔ متعدد صارفین نے اسے مائلیج جانچنے کا ’’نیا فارمولا‘‘ قرار دیتے ہوئے طنزیہ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’دوستو، بحث ختم کریں، گڈکری جی گاڑی کی اوسط جانچنے کا نیا فارمولا لے آئے ہیں۔‘‘ اسی پوسٹ میں حکومت کی ایتھنول پالیسی پر طنز کرتے ہوئے لکھا گیا، ’’اب ریاضی اور بنیادی سائنس کی کتابیں بھی جلا دینی چاہئیں تاکہ ان سے بھی ایتھنول نکالا جا سکے۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا کہ اگر گاڑی کا اصل مائلیج صرف سروس سینٹر کی مشین سے ہی معلوم ہوگا تو عام صارف اپنی گاڑی کی ایندھن کی کارکردگی کا اندازہ کیسے لگا سکے گا۔

ایک اور پوسٹ میں طنز کرتے ہوئے کہا گیا، ’’E20 کی زبردست کامیابی کے بعد اب گڈکری جی شاید اڑنے والی بسیں بھی لے آئیں گے۔‘‘ صارف نے مزید لکھا، ’’اسی لیے ان کے دماغ کی قیمت ۲۰۰؍ کروڑ روپے بتائی جاتی ہے اور انہیں ہندوستان کا دیسی ایلون مسک کہا جاتا ہے۔‘‘ گزشتہ کئی ماہ سے ملک کے مختلف حصوں میں گاڑی مالکان E20 پیٹرول استعمال کرنے کے بعد مائلیج میں کمی کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ معروف یوٹیوبر سورو جوشی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی گاڑی کا مائلیج تقریباً ۱۹؍ سے ۲۰؍ کلومیٹر فی لیٹر سے کم ہو کر صرف ۵؍ کلومیٹر فی لیٹر رہ گیا۔ اسی طرح یوٹیوبر منیش کشیپ نے الزام لگایا کہ ان کی نئی ٹویوٹا انووا ہائبرڈ ہائی کراس کا انجن E20 ملاوٹ والے ایندھن کے استعمال سے متاثر ہوا۔
تاہم ٹویوٹا نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ گاڑی کا انجن E20 ایندھن کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے اور مبینہ خرابی کی وجہ آلودہ ایندھن تھا، نہ کہ ایتھنول ملاوٹ۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’Toyota Hycross ایک E20 سے مطابقت رکھنے والی گاڑی ہے، جسے اسی ایندھن کے لیے ڈیزائن، جانچا اور تصدیق کیا گیا ہے۔ گاڑی کے فیول سسٹم یا اس کے کسی بھی حصے کو E20 سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔‘‘ البتہ کمپنی نے صارفین کو صرف مجاز اور معتبر پٹرول پمپوں سے ایندھن بھرانے کا مشورہ دیا۔ نتن گڈکری نے بھی ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس E20 کی وجہ سے انجن کو نقصان پہنچنے کا حقیقی اور قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہے تو وہ متعلقہ گاڑی کو مجاز ڈیلر کے پاس لے جائے اور اس کی اطلاع وزارت کو بھی دے۔انہوں نے کہا کہ ’’اگر کسی کو کوئی حقیقی مسئلہ ہے تو گاڑی مجاز ڈیلر کے پاس لے جائیں۔ اگر ثابت ہو کہ E20 کی وجہ سے نقصان ہوا ہے تو مجھے اطلاع دیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: عام آدمی پارٹی کی ایتھنال کے خلاف گڈکری کی رہائش گاہ تک مارچ کی کوشش

انہوں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ایتھنول کی کیلوری ویلیو کم ہونے کی وجہ سے مائلیج میں کچھ کمی ممکن ہے، لیکن یہ زیادہ تر ڈرائیونگ کے حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ وزیر کے مطابق E20 پیٹرول متعارف کرانے سے قبل آٹو موٹیو ریسرچ اسوسی ایشن آف انڈیا (ARAI) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرولیم (IIP) کی جانب سے اس کی وسیع پیمانے پر جانچ کی گئی تھی۔ انہوں نے گاڑی مالکان کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ متعلقہ کمپنی کے ساتھ شکایت درج کرائیں اور وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں کی ویب سائٹ پر بھی تفصیلات جمع کرائیں تاکہ معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں۔ گڈکری نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو کمپنی اس کی مرمت کرے گی۔ اگر صارف مطمئن نہ ہو تو وہ صارف عدالت سے بھی رجوع کر سکتا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ E20 پیٹرول کے ملک گیر نفاذ کے بعد متعدد ڈرائیوروں نے مائلیج میں کمی کی شکایات کی ہیں، جبکہ آٹوموبائل صنعت کے بعض ماہرین نے بھی پرانی گاڑیوں میں اس ایندھن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کمپنیوں کے مجاز تشخیصی آلات انجن یا الیکٹرانک نظام کی خرابی کی نشاندہی کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم فل ٹینک طریقہ اور ڈیش بورڈ ریڈنگ حقیقی دنیا میں ایندھن کی اوسط معلوم کرنے کے لیے آج بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقے ہیں۔ ان کے مطابق ایندھن کی کارکردگی صرف ایندھن پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ٹریفک کی صورتحال، ڈرائیونگ کا انداز، ٹائروں میں ہوا کا دباؤ، گاڑی پر وزن اور ایئر کنڈیشنر کے استعمال جیسے عوامل بھی مائلیج پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK