Updated: May 18, 2026, 9:10 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں UNRWA کے منہدم کیے گئے ہیڈکوارٹر کی جگہ نئے ’’دفاعی کمپاؤنڈ‘‘ کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ منصوبے کے تحت وہاں ملٹری میوزیم، بھرتی دفتر اور وزیر دفاع کا دفتر قائم کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فیصلے کو ’’خودمختاری اور سلامتی‘‘ سے تعبیر کیا جبکہ اقوام متحدہ اور حقوق گروپوں نے پہلے ہی UNRWA احاطے کی مسماری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع UNRWA کے سابق ہیڈکوارٹر کی جگہ ایک نئے ’’دفاعی کمپاؤنڈ‘‘ کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد خطے میں سیاسی اور قانونی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع اور یروشلم میونسپلٹی کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ نئے کمپاؤنڈ میں ایک فوجی میوزیم، اسرائیلی فوج کے لیے بھرتی دفتر اور وزیر دفاع کا دفتر قائم کیا جائے گا۔ اسرائیل کاٹز نے اس فیصلے کو ’’خودمختاری، صیہونیت اور سلامتی‘‘ کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق UNRWA کمپاؤنڈ کے ’’کھنڈرات‘‘ پر دفاعی اداروں کا قیام ایک ’’علامتی اور جائز قدم‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: خوراک کی تقسیم کے مرکز پر اسرائیلی حملے، ۴؍ فلسطینی جاں بحق
اسرائیل نے گزشتہ برس انرواکو مشرقی یروشلم میں اپنے تمام دفاتر خالی کرنے اور سرگرمیاں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں جنوری میں اسرائیلی فورسیز نے شیخ جراح محلے میں واقع ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہو کر بلڈوزروں اور بھاری مشینری کے ذریعے عمارتوں کو مسمار کر دیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسیز نے عمارت پر اسرائیلی پرچم بھی لہرا دیا تھا جبکہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر اتمامر بین گوئیر نے وہاں کا دورہ کیا تھا۔ انرواکے ترجمان نے اس وقت کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں شاید ہی کبھی کسی ملک نے اقوام متحدہ کے احاطے سے اس کا جھنڈا ہٹا کر اس کی عمارت کو منہدم کیا ہو۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے نے بھی اس اقدام کو اقوام متحدہ کے نظام پر ’’وسیع حملے‘‘ کی علامت قرار دیا تھا۔
انروامشرقی یروشلم، غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل تاہم طویل عرصے سے اس ایجنسی پر تنقید کرتا رہا ہے اور اس پر فلسطینی گروپوں کے ساتھ روابط کے الزامات عائد کرتا آیا ہے، جنہیںانروا مسترد کرتا ہے۔ ایجنسی نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل پر اپنے خلاف ’’بڑے پیمانے پر غلط معلومات پھیلانے کی مہم‘‘ چلانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ دوسری جانب غزہ جنگ کے دوران انروا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایجنسی کے مطابق غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اس کے ۳۰۰؍ سے زائد ملازمین ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید
غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ۷۲۶۰۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ۱۷۲۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اگرچہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔ وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک ۸۷۰؍ سے زائد افراد ہلاک اور ۲۵۴۰؍ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔