Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانبدارانہ رپورٹنگ بھی صحافیوں پر حملوں کا جواز نہیں بن سکتی: ایڈیٹرز گلڈ

Updated: July 25, 2026, 1:47 PM IST | New Delhi

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے مظاہروں کے دوران صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانبدارانہ رپورٹنگ بھی تشدد کا جواز نہیں بن سکتی۔ گلڈ نے مظاہرین کے خلاف پولیس کی سخت کارروائی کو بھی جمہوری اقدار اور آزادیٔ اظہار کے منافی قرار دیا۔

A female reporter among protesters at Jantar Mantar. Photo: INN
جنتر منتر پرایک خاتون رپورٹر مظاہرین کے درمیان۔ تصویر: آئی این این

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے جمعرات کو کہا کہ اگرچہ بعض میڈیا اداروں کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن یہ کسی بھی صورت میں صحافیوں پر تشدد کا جواز نہیں بن سکتی۔ گلڈ نے خبردار کیا کہ ایسے حملوں کے ’’کمزور سماجی ڈھانچے پر نہایت تباہ کن اثرات‘‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔ گلڈ نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج کی کوریج کرنے والے مختلف ٹی وی چینلوں کے رپورٹرز پر حملے اور ہنگامہ آرائی دکھائی گئی۔ تنظیم نے ساتھ ہی سکیوریٹی فورسیز کی جانب سے ’’پرامن احتجاج کو بے رحمی سے کچلنے‘‘ کی بھی مذمت کی۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران متعدد ویڈیوز منظرِ عام پر آئیں جن میں مظاہرین صحافیوں پر حملہ کرتے دکھائی دیئے۔ ایک ویڈیو میں ٹائمز ناؤ کے رپورٹر دیو کوٹک پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دہلی کی ایک سڑک پر کھڑے نظر آئے۔ ویڈیو میں دیو کوٹک نے بتایا:’’مجھے کم از کم چھ مختلف سمتوں سے تھپڑ اور گھونسے مارے گئے، پانی کی بوتلوں سے بھی حملہ کیا گیا۔ مظاہرین نے میرا چشمہ، موبائل فون اور گھڑی بھی چھین لی۔ ‘‘ٹائمز نیٹ ورک نے الزام لگایا کہ اس کی دو مزید رپورٹرز شفالی نگم اور جیوتی مشرا بھی احتجاج کی کوریج کے دوران حملے کا نشانہ بنیں۔

زی نیوز کے مطابق، پٹنہ میں مظاہرین نے اس کے نمائندے پرشانت جھا اور کیمرہ پرسن شہنواز عالم پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہو گئے۔ ممبئی سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں بھی مظاہرین کو زی میڈیا کے ایک رپورٹر کے ساتھ بدتمیزی کرتے دیکھا گیا۔ ایڈیٹرز گلڈ نے کہا کہ مظاہرین کا غصہ خاص طور پر ان میڈیا اداروں کی جانب تھا جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ گلڈ نے کہا کہ’’غلط اور جانبدارانہ رپورٹنگ‘‘ میڈیا کو جمہوریت کے ایک اہم ستون کی حیثیت سے کمزور کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا:’’معاشرہ میڈیا کو جو مقام دیتا ہے، وہ کئی دہائیوں پر محیط متوازن، غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور معقول تجزیوں کی بنیاد پر حاصل ہونے والے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ ذاتی مفادات یا حکومت کی خواہشات کے مطابق رپورٹنگ کرنا ذمہ دار صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے، جن کی گلڈ حمایت کرتی ہے۔ ‘‘تاہم، گلڈ نے واضح کیا کہ اس سب کے باوجود صحافیوں پر حملے کسی صورت جائز قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے گلڈ نے کہا کہ اختلافِ رائے کے حق کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانا اظہارِ رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا:’’نوجوان مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور حتیٰ کہ برقی جھٹکے دینے والے آلات کا استعمال بھی کسی طور درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اختلافِ رائے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سی جے آئی کا دہلی پولیس کے تشدد پر درخواست مسترد کرنےسے انکار، میڈیا رپورٹنگ کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ کہا

بتا دیں کہ دہلی میں نوجوانوں کا احتجاج۶؍ جون کو اس وقت شروع ہوا جب کاکروچ جنتا پارٹی کی سیاسی مہم کے تحت جنتر منتر پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ اتوار کو اس احتجاج میں اس وقت ہزاروں افراد شامل ہو گئے جب پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔ اس کے بعد احتجاج دہلی سے نکل کر ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا۔ پیر کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو پولیس کی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK