مرکزی وزیر تعلیم نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی ۳۹؍ مستقل اسامیوں میں سے ۱۵؍ خالی ہیں، جبکہ۴۴؍ مشیروں سمیت ۷۳؍ افراد کو معاہدے کی بنیاد پر تعینات کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر تعلیم نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی ۳۹؍ مستقل اسامیوں میں سے ۱۵؍ خالی ہیں، جبکہ۴۴؍ مشیروں سمیت ۷۳؍ افراد کو معاہدے کی بنیاد پر تعینات کیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی۳۹؍ مستقل اسامیوں میں سے۱۵؍ خالی ہیں۔ اتوار کو راجیہ سبھا میں وزارت تعلیم نے بتایا کہ۴۴؍ مشیروں سمیت۷۳؍ افراد کو معاہدے کی بنیاد پر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ ڈیٹا تجزیہ کاروں اور قانونی معاونت سمیت۱۲۰؍ سے زائد عہدوں پر آؤٹ سورسنگ کے ذریعے کام لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار ایک اپوزیشن رکن پارلیمنٹ کے سوال کے جواب میں دیے گئے، جب کہ حکومت اور NTA پر مسابقتی امتحانات کے انعقاد میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تنقید جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر: جیک ڈورسی کے’’بٹ چیٹ‘‘ ایپ کو ہٹانے کیلئے گِٹ ہب کو حکومت کا نوٹس
یاد رہے کہ حالیہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے نے طول پکڑ لیا ہے، یہ پرچہ لیک NTAکی اہلیت پر ہی سوال کھڑے کر رہا ہے۔ اس مبینہ پرچہ لیک کے سبب امتحان رد کیا گیا تھا،اس سے دلبرداشتہ ہوکر اب تک ۲۰؍ سے زائد طلبہ نے خود کشی کرلی ہے۔جس نے پورے ملک میں طلبہ کو بے چین کردیا، اور وہ اس کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ دہلی اور کئی شہروں میں نوجوان مظاہرین اس معاملے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ناقص نظام کے سبب جن طلبہ نے خود کشی کی ہے ان کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپئے معاوضہ دیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈی یو: طلبہ کو احتجاج سے دور رہنے کی ہدایت پر راہل گاندھی، پوجا بھٹ کی سخت تنقید
ذہن نشین رہے کہ ۲۰۲۶ء میں ایجنسی نے اب تک۱۲؍ امتحانات منعقد کیے ہیں، جن میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انڈرگریجویٹ NEET اور کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹیسٹ (CUET) شامل ہیں۔ ان بارہ امتحانات کے لیے۶۵؍ لاکھ امیدواروں نے اپنے نام درج کرائے تھے۔ مزید برآں وزارت تعلیم کے مطابق مالی سال۲۰۲۳-۲۴ء میں NTA کی آمدنی ۱۱۱۶؍ کروڑ روپے رہی جبکہ اخراجات۱۰۴۰؍ کروڑ روپے تھے۔