Updated: July 24, 2026, 7:14 PM IST
| New Delhi
مرکزی وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (I4C) نے مائیکروسافٹ کی ملکیت والے گِٹ ہب کو جیک ڈورسی کے تیار کردہ اوپن سورس بلوٹوتھ میش میسجنگ ایپ Bitchat کے ریپوزٹریز ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر کام کرنے والا یہ ایپ انٹرنیٹ بندش کے دوران رابطہ قائم رکھنے، قانونی نگرانی سے بچنے اور غیر قانونی اجتماعات یا امن عامہ کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب جیک ڈورسی نے اس حکومتی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے ایسی ٹیکنالوجی کے خلاف کارروائی قرار دیا، جبکہ ڈجیٹل حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ہندوستان میں نیٹ ۲۰۲۶ء پیپر لیک اور اس کے خلاف جاری احتجاج کے دوران حکومت نے سائبر اقدام کرتے ہوئے سابق ٹویٹر (موجودہ ایکس) کے شریک بانی جیک ڈورسی کے تیار کردہ اوپن سورس میسجنگ ایپ Bitchat کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (I4C) نے مائیکروسافٹ کی ملکیت والے گِٹ ہب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ Bitchat سے متعلق مخصوص ریپوزٹریز اور ان کے سورس کوڈ تک رسائی ہٹا دے یا انہیں غیر فعال کر دے۔ حکومت نے اس کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ء اور آئی ٹی رولز ۲۰۲۱ء کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم دباؤ میں آچکے ہیں: ابھیجیت دپکے، جنتر منتر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
حکومت کے مطابق Bitchat ایک ایسا غیر مرکزی (Decentralised) میسجنگ ایپ ہے جو بلوٹوتھ میش نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے۔ اس کے استعمال کے لیے نہ موبائل نیٹ ورک درکار ہوتا ہے، نہ انٹرنیٹ اور نہ ہی کسی مرکزی سرور پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہی خصوصیات اسے حساس حالات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج بنا سکتی ہیں۔ سرکاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی کو قانونی نگرانی سے بچنے، انٹرنیٹ بندش کے دوران رابطہ برقرار رکھنے، غیر قانونی اجتماعات کی منصوبہ بندی، پرتشدد احتجاج، غلط معلومات پھیلانے، مجرمانہ سازشوں اور ریاستی سلامتی کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اس ایپ کا کوئی مرکزی سروس فراہم کنندہ موجود نہیں، اس لیے تفتیشی اداروں کے لیے صارفین یا پیغامات سے متعلق معلومات حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر انٹرنیٹ بندش کے خلاف پی آئی ایل، دہلی ہائی کورٹ فوری سماعت پر آمادہ
رپورٹس کے مطابق نوٹس میں گِٹ ہب کو تین مخصوص ریپوزٹریز تک رسائی بند کرنے کے لیے تین گھنٹے کی مہلت بھی دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب جیک ڈورسی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر حکومتی نوٹس کی نقل شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان کی حکومت کو Bitchat جیسی ٹیکنالوجیز پسند نہیں، اس لیے وہ انہیں ہٹانا چاہتی ہے۔‘‘ ان کی اس پوسٹ کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا اور اوپن سورس سافٹ ویئر، ڈجیٹل آزادی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن پر نئی بحث چھڑ گئی۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان میں توقع کے برخلاف نتائج ،عدالت نے نوٹس جاری کیا
کئی رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی میں جاری سی جے پی احتجاج کے دوران انٹرنیٹ سروسیز متاثر ہونے کے بعد بعض مظاہرین نے رابطے برقرار رکھنے کے لیے Bitchat جیسے آف لائن میسجنگ ایپس میں دلچسپی دکھائی، جس کے بعد حکومت کی تشویش مزید بڑھ گئی۔ تاہم حکام نے باضابطہ طور پر کسی مخصوص گروہ کی جانب سے اس ایپ کے استعمال کی تصدیق نہیں کی، بلکہ عمومی سیکوریٹی خدشات اور ممکنہ غلط استعمال کو کارروائی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (IFF) نے حکومت کے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوپن سورس کوڈ تک رسائی محدود کرنا آئینی آزادیوں اور تکنیکی تحقیق پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے ایپ پہلے ہی ڈاؤن لوڈ کر رکھی ہو تو صرف گِٹ ہب سے سورس کوڈ ہٹانے سے اس کا استعمال فوری طور پر نہیں رکے گا، اس لیے اس اقدام کی قانونی اور عملی افادیت پر بھی سوالات موجود ہیں۔
Bitchat کو جیک ڈورسی نے ایک ایسے میسجنگ ایپ کے طور پر متعارف کرایا تھا جو قدرتی آفات، انٹرنیٹ بندش یا کمزور نیٹ ورک والے علاقوں میں بھی قریبی ڈیوائسز کے درمیان بلوٹوتھ کے ذریعے پیغامات پہنچا سکتا ہے۔ اس کے حامی اسے رازداری اور ہنگامی حالات میں رابطے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی خصوصیات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔