آندولن کے دوران اساتذہ کو بی ایل او، ایس آئی آر کی ڈیوٹی نہ دینے ، ٹی ای ٹی دینے پر مجبور نہ کرنے اور جن ٹیچروںکے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اسے واپس لینے کامطالبہ کیا گیا۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
غیر تدریسی خدمات ،بی ایل او اور ایس آئی آر کی ڈیوٹی اور ٹی ای ٹی لازمی کرنے جیسی متعدد دشواریوں کی وجہ سے اساتذہ سخت پریشانی اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کاتعلیمی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ ان ہی مسائل کے حل کیلئے ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع کی تعلیمی تنظیموں کی فیڈریشن نے جمعرات کو ’اسکول بند ‘ آندولن کیا جس کے تحت ممبئی کے آزاد میدان کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ ممبئی کے علاوہ متعدد اضلاع میں کلکٹر آفس کے سامنے زبردست احتجاج کیا گیا۔اس وجہ سے ریاست کے کئی اضلاع میں اسکول بند رہے ۔ آندولن کے دوران اساتذہ کو بی ایل او، ایس آئی آر کی ڈیوٹی نہ دینے ، اساتذہ کو ٹی ای ٹی دینے پر مجبور نہ کرنے اور جن اساتذہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اسے واپس لینے کامطالبہ کیا گیا۔
پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری تنظیم ،بی ایل او ڈیوٹی ناانصافی روک تھام فورم، برہن ممبئی سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری نان ٹیچنگ اسٹاف اسوسی ایشن ،ٹیچرس فیڈریشن ممبئی کوکن ڈویژن ،مہاممبئی تعلیم سنستھا، ممبئی سیکنڈری اسکول پرنسپلز اسوسی ایشن، ممبئی اور مضافاتی سیکنڈری ٹیچرس اسوسی ایشن ،مہاراشٹر میوزک ٹیچرس اسوسی ایشن ،تعلیم بچاؤ منچ ، پرہار ٹیچرس اسوسی ایشن ،آدرش تعلیم سیوا سنگھ اور مہاراشٹر اسٹیٹ ٹیچرس نان ٹیچنگ اسٹاف آرمی وغیرہ نے احتجاج میں حصہ لیا۔
ریاست میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور اساتذہ کو ان کی اصل ذمہ داری یعنی تدریسی خدمات انجام دینے کا مناسب موقع فراہم کرنے کے مطالبے کے ساتھ جمعرات کو مہاراشٹر بھر میں پرائمری، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری، جونیئر کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے ریاست گیر ’اسکول بند‘ تحریک میں حصہ لیا۔ مختلف اضلاع میں اسکول بند رکھ کر ضلع کلکٹر دفاترپر مورچے نکالے گئے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، وزیر تعلیم دادا بھُسے اور دیگر اعلیٰ حکام کے نام مطالباتی یادداشتیں پیش کی گئیں۔
اساتذہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر واقعی طلبہ کے معیارتعلیم میں بہتری مطلوب ہے تو اساتذہ کو غیر تدریسی ذمہ داریوں سے آزاد کرکے انہیں مکمل طور پر تدریس کیلئے وقت فراہم کیا جائے کیونکہ مسلسل بڑھتے غیر تدریسی کاموں، بی ایل او ڈیوٹی، مختلف سرکاری سروے، ووٹر لسٹ کی ذمہ داریوں اور دیگر انتظامی امور کی وجہ سے تدریسی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔
احتجاج کے دوران ’اسکول بچاؤ، تعلیم بچاؤ‘، ’تعلیم بچاؤ، ملک بچاؤ‘ اور ’اساتذہ کو پڑھانے دیں، طلبہ کو سیکھنے دیں‘ جیسے فلک شگاف نعروں کے ساتھ اساتذہ نے حکومت سے فوری مثبت فیصلوں کا مطالبہ کیا۔ اساتذہ نے واضح کیا کہ ٹی ای ٹی کے نام پر سینئر اور طویل تجربہ رکھنے والے اساتذہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی نہ کی جائے۔ٹی ای ٹی کے موجودہ ڈھانچے میں معیاری اور عملی اصلاحات نافذ کی جائیں۔ ۲۰۱۰ء سے قبل مقرر کئے گئے تمام اساتذہ کیلئے خصوصی ٹی ای ٹی امتحان منعقد کیا جائے، جونیئر کالج سنچ مانیتا کی خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، شکشن سیوک اسکیم کو منسوخ کیا جائے، غیر امدادی اسکولوں کو فوری طور پر ۲۰؍ فیصد اضافی گرانٹ دی جائے، تمام امدادی، جزوی امدادی اور غیر امدادی اسکولوں کو موجودہ ضابطوں کے مطابق ۱۰۰؍ فیصد گرانٹ فراہم کی جائے اور اساتذہ کو ووٹر لسٹ سمیت تمام غیر تدریسی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے۔اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کےجنرل سیکریٹری ساجد نثار احمد نے بتایا کہ’’ ریاست بھر میں اساتذہ کی مختلف تنظیموں کی مشترکہ اپیل پر یہ تاریخی احتجاج منعقد کیا گیا جبکہ ممبئی کے آزاد میدان میں بھی زبردست دھرنا دیا گیا۔‘‘
ناسک، کولہاپور، آکولہ، امرائوتی ، دھولیہ ، جلگاؤں ، ناندیڑ ، پونے ، رائے گڑھ، رتناگیری ، نندوربار، بیڑ ،پربھنی، اورنگ آباد، ہنگولی ،واشم ، ایوت محل ، بلڈانہ ، لاتور، بھنڈارہ، گوندیا، چندرپور، وردھا اور احمد نگر سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں سیکڑوں اساتذہ نے احتجاج میں شرکت کی اور مطالباتی میمورنڈم کلکٹر کو پیش کیا۔ ریاست بھر میں اردو، مراٹھی، ہندی اور دیگر تمام میڈیم کے اساتذہ نے اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تحریک میں بھرپور شرکت کی اور واضح پیغام دیا کہ جب تک اساتذہ کے جائز مطالبات منظور نہیں کئے جاتے تب تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔