’میپنگ کلائمیٹ اسٹریسورس اِن ممبئی‘ کےعنوان سے کی گئی اس تحقیق میں ’ناسا‘ کے لینڈ سیٹ۹؍ سیٹیلائٹ ڈیٹا اور کیو جی آئی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ یہ منصوبہ ایچ ایس این سی یونیورسٹی اور برٹش کاؤنسل کے اشتراک سے مکمل ہوا۔
شفاء خان نیٹ سیٹ کے بعد ریسرچ کی خواہ ہے- تصویر:آئی این این
شہرومضافات میں ماحولیاتی بحران اور آلودگی کے تناظر میں ’بامبے ٹیچرز ٹریننگ کالج‘ کی طالبہ شفاء خان کی تحقیق نے شہر کے ’اربن ہیٖٹ آئی لینڈ‘ مسئلے کو سائنسی بنیادوں پر اجاگر کیا ۔ ’میپنگ کلائمیٹ اسٹریسورس اِن ممبئی‘ کے عنوان سے کی گئی اس تحقیق میں ’ناسا‘ کے لینڈ سیٹ۹؍ سیٹیلائٹ ڈیٹا اور کیو جی آئی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ یہ منصوبہ ایچ ایس این سی یونیورسٹی اور برٹش کاؤنسل کے اشتراک سے مکمل ہوا۔
تحقیق کے نتائج نہایت چونکا دینے والے ہیں۔ آرے کالونی اور گھاٹکوپر کے درمیان درجۂ حرارت میں ۱۶؍ ڈگری سیلسئیس کا نمایاں فرق ریکارڈ کیا گیا۔ آرے کالونی میں لینڈ سرفیس درجہ حرارت ۲۶ء۱؍ ڈگری جبکہ گھاٹکوپر میں ۴۲ء۲؍ ڈگری سیلسیئس پایا گیا جو کنکریٹائزیشن اور سبزہ کی کمی کے باعث پیدا ہونے والے ہیٹ آئی لینڈ اثر کو واضح کرتا ہے۔ گرینری انڈیکس (این ڈی وی آئی) کے مطابق آرے کالونی کے جنگلات میں۰ء۴۹؍ کی صحت مند شرح ریکارڈ ہوئی جبکہ گھاٹکوپر میں یہ صرف ۰ء۰۲؍ رہی جو تقریباً صفر قدرتی کولنگ کور کی نشاندہی کرتی ہے۔فضائی معیار کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک پائی گئی۔ جنوبی ممبئی کے اسکولوں کے اطراف ایئر کوالیٹی انڈیکس (اے کیو آئی) ۱۸۹؍ ریکارڈ ہوا، جو’غیر صحت مند‘ زمرے میں آتا ہے اور طلبہ کی صحت کیلئے خطرے کی علامت ہے۔ مزید برآں ایس آر ٹی ایم ڈی ای ایم ڈیٹا کے ذریعے گھاٹکوپر کے نشیبی علاقوں میں ممکنہ ’اربن ڈوب‘ کی نشاندہی کی گئی جہاں ناقابلِ جذب کنکریٹ سطح بارش کے پانی کو روک کر اچانک سیلابی صورتحال پیدا کرتی ہے۔
شفاء خان نے تحقیق کو عملی اقدامات سے جوڑتے ہوئے آگاہی مہم بھی چلائی۔ مختلف زبانوں میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے، راہیجا گارڈن میں شجرکاری کی گئی اور نالوں کی بندش روکنے کیلئے ہائی مائیکرون لائنرز فراہم کئے گئے۔ اس پراجیکٹ پر مبنی دستاویزی فلم کو ۲؍ ہزار سے زائد افراد کی جانب سے مثبت پذیرائی ملی۔ریسرچ گائیڈ پروفیسر ڈاکٹر راجیو آئی جھا اور کالج کے پرنسپل ڈاکٹر بھگوان بلانی نے اس کاوش کو موسمیاتی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیق اس بات کی مثال ہے کہ طالب علم اور اساتذہ بھی موسمیاتی استحکام کے میدان میں قائدانہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔
شفاء خان کا کہنا ہے کہ ممبئی کو آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے ’اسپنج سٹی‘اور ’گرین اسکرین‘ جیسے پائیدار شہری تصورات اپنانا ناگزیر ہیں۔شفاء خان نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ میں گھاٹکوپر کی رہائش پذیر ہوں، میری ابتدائی تعلیم گروکل ہائی اسکول سے ہوئی ۔بعد ازیں میں نے سائنس میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے جی سومیا کالج سے مکمل کیا۔ میرے والد ٹور اینڈ ٹراویلس کے کاروبار سے منسلک ہے۔
شفاء خان نیٹ سیٹ کے بعد ریسرچ کی خواہ ہے اور کالج میں تدریس ان کا دیرینہ خواب ہے۔یہ تحقیق نہ صرف ایک تعلیمی سنگِ میل ہے بلکہ شہری منصوبہ سازوں اور ماحولیاتی ماہرین کیلئے واضح پیغام بھی ہے کہ سرسبز ماحول ہی شہر کو شدید گرمی، آلودگی اور سیلابی خطرات سے محفوظ رکھنے کی حقیقی ڈھال ہے۔