چینی صدر نے مصر کے دورے میں خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کا نظام خود تشکیل دینے کی حمایت کی، بیرونی مداخلت اور ’’دوہرے معیار‘‘ کی مخالفت کی، جبکہ فلسطینی مسئلے کو مشرق وسطیٰ کا بنیادی مسئلہ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 8:03 PM IST | Cairo
چینی صدر نے مصر کے دورے میں خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کا نظام خود تشکیل دینے کی حمایت کی، بیرونی مداخلت اور ’’دوہرے معیار‘‘ کی مخالفت کی، جبکہ فلسطینی مسئلے کو مشرق وسطیٰ کا بنیادی مسئلہ قرار دیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے خطے کے لیے نئی سیکوریٹی ساخت تشکیل دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے عوام کو اپنے معاملات اور مستقبل کا خود فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے بیرونی طاقتوں کی مداخلت مسترد کرنے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے جامع حل اختیار کرنے پر زور دیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں جنگوں اور کشیدگی کے باعث امریکہ کے ساتھ کئی ممالک کے سیکوریٹی تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شی جن پنگ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں کہا کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کی امن و سلامتی پر بات چیت مضبوط کرنے اور نئی علاقائی سیکوریٹی ساخت تلاش کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مشرق وسطیٰ کے عوام کو اپنے معاملات کا مالک رہنا چاہیے‘‘ اور بیرونی مداخلت کی مخالفت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے چین اور مصر پر زور دیا کہ وہ یک طرفہ اقدامات اور ’’دھونس‘‘ کی مخالفت کے لیے مل کر کام کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اگر ٹرمپ اجازت دیں تو غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کو تیار: اسرائیلی وزیر دفاع
چینی صدر نے نئی سیکوریٹی ساخت کے لیے چار نکاتی تجویز بھی پیش کی۔ اس میں علاقائی ممالک کے اندر مشترکہ سلامتی کے لیے محرک پیدا کرنا، مختلف تنازعات کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے جامع انداز اپنانا، ترقی کو پائیدار امن کی بنیاد بنانا اور بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانا شامل ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مختلف بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کا الگ الگ حل کافی نہیں ہوگا۔ شی نے فلسطینی مسئلے کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’’مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا بنیادی مرکز‘‘ ہے اور اسے کسی بھی وقت نظرانداز یا حاشیے پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ چین اور مصر کے مشترکہ بیان میں بھی فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور مستقل حل کو ۲؍ ریاستی فارمولے سے جوڑا گیا، جس کے تحت ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی۔
دونوں ممالک نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کیا اور غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور فلسطینی اتھاریٹی کی غزہ واپسی کی ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری، زمینوں پر قبضے اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ شی جن پنگ نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کو مشرق وسطیٰ کے معاملات سے نمٹنے کی بنیادی بنیاد قرار دیا اور عالمی طاقتوں، بالخصوص خطے سے باہر کی بڑی طاقتوں، سے ’’دوہرے معیار‘‘ ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور اقوام متحدہ کو مشرق وسطیٰ میں مؤثر کردار ادا کرنے کی حمایت ملنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ۸؍ ویں جماعت تک اے آئی پر پابندی، ہائی اسکول طلبہ کو محدود اجازت
چین نے خطے میں بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ اہم ہوگیا ہے جب خطے کی حالیہ جنگی صورتحال نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت اہم بحری راستوں سے تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ شی نے کہا کہ چین علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر بحری راستوں کی سلامتی، ترقیاتی تعاون اور باہمی اعتماد بڑھانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔ مصر نے نئی علاقائی سیکوریٹی ساخت کی تلاش میں چین کے ساتھ رابطہ بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ السیسی نے چین کے مشرق وسطیٰ سے متعلق مؤقف کو ’’مسلسل، غیر جانب دار اور معروضی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصر کشیدگی کم کرنے، سیاسی ذرائع سے تنازعات حل کرنے اور علاقائی سلامتی و ترقی کے لیے کام جاری رکھے گا۔
شی جن پنگ کا یہ ۱۰؍ سال میں مصر کا پہلا سرکاری دورہ ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی ۷۰؍ ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ مصر ۱۹۵۶ء میں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا عرب اور افریقی ملک تھا۔ دونوں لیڈروں نے سیکوریٹی کے ساتھ تجارت، بنیادی ڈھانچے، سبز توانائی، برقی گاڑیوں، خلائی شعبے، ڈجیٹل معیشت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ ملاقات کے بعد دونوں ملکوں نے مصنوعی ذہانت، تجارت، صنعتی و رسدی زنجیروں اور ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ تعاون سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کیے۔ چینی سرکاری ذرائع کے مطابق دورے کے دوران ۲۰؍ سے زیادہ تعاون کی دستاویزات پر دستخط ہوئے۔