Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایکناتھ شندے کے ۱۱؍ جھیلوں کے منصوبے کو پنکجامنڈے نے منسوخ کردیا

Updated: April 29, 2026, 3:07 PM IST | Agency | Mumbai

فنڈز بھی سود سمیت واپس کرنے کا حکم ۔کُل ۱۴؍ جھیلوں کے تحفظ کے پروجیکٹ کورد کیا گیا ہے جن میں۳؍ پروجیکٹ آدتیہ ٹھاکرے کے دورکے ہیں۔

Pankaja Munde.Photo:INN
پنکجا منڈے۔ تصویر:آئی این این
ریاست کی سیاست میں جھیلوں کے تحفظ کے منصوبوں پربڑے تنازع کا اندیشہ ہے۔ ریاست کے محکمہ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی نے سابقہ حکومتوں کے دورمیں منظور شدہ۱۴؍ جھیلوں کے منصوبوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ مزید برآں ان منصوبوں کیلئے جاری کردہ فنڈز کوبھی سود سمیت واپس کرنے کا حکم دیا   ہے۔ مذکورہ محکمہ کی سربراہ بی جے پی کی سینئر لیڈر پنکجا منڈے  ہیں۔ منسوخ کئے گئے  ۱۴؍ منصوبوں  میں سے۱۱؍ کو اس وقت منظوری دی گئی تھی جب ایکناتھ شندے  کے پاس وزارت ماحولیات کا قلمدان بھی تھا  جبکہ باقی ۳؍منصوبوں کو آدتیہ ٹھاکرے کے دور میں منظور کیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے ریاست میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے اپنی حلیف پارٹی  کے دور میں منظور شدہ پروجیکٹوں پر بھی قینچی چلادی ہے۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق شندے کے دور میں جن۱۱؍ پروجیکٹوں کو منظور کیا گیا ہے، ان میں لاتور میں مکتیشور، سمتا نگر اور اوسا جھیلیں، کرجت میں وڈاپ جھیل، بیڑ میں پرمپوک جھیل، علی باغ میں بیلوشی جھیل اورجلگاؤں ضلع کے چالیس گاؤں کی کلماڈو، ویسا پور، دیولی اوربراہمن شیوگے  شامل ہیں۔ ان پروجیکٹوں کی کل لاگت کا تخمینہ تقریباً ۲۴۴ء۱۵؍ کروڑ لگایا گیا تھا  جس میں سے۷۳ء۳۱؍ کروڑ پہلے ہی جاری ہو چکے تھے۔
آدتیہ ٹھاکرے کے دور میں منظور کئے گئے ۳؍ پروجیکٹوں  رتناگیری کے  علاقے لانجا  میں اوجار جھیل، ممبئی میں ایرنگل جھیل  اور ناسک کےعلاقے اگت پوری میں کھمبالے جھیل کی کل لاگت ۳۵ء۹۹؍ کروڑروپے تھی۔ اس میں سے تقریباً  ۱۸؍کروڑ روپے پہلے ہی خرچ کیلئے جاری کئے جا چکے ہیں۔
محکمے کے حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ چونکہ اب ان منصوبوں کی اصولی منظوری واپس لی جا رہی ہے  اس لئے مالی بے ضابطگیوں سے بچنے کیلئے پہلے جاری کی گئی پوری رقم سود سمیت واپس لیا جائے گا۔ یہ فیصلہ فروری۲۰۲۶ء میں اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد کیا گیا جس میں معلوم ہوا کہ ۵؍ منصوبوں کی تجاویز مقررہ فارمیٹ کے مطابق تیار نہیں کی گئیں۔ مزید برآں ۹؍ منصوبوں نے ۲؍ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پروجیکٹ کی نظرثانی شدہ رپورٹس جمع نہیں کروائیں۔
 
 
اس معاملے پر وزیر پنکجا منڈے کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نائب وزیراعلیٰایکناتھ شندے اور محکمہ کی سیکریٹری جے شری بھوج سے رابطہ کرنے کی کوششیں بھی بے نتیجہ رہیں۔
درحقیقت  ریاست میں۰۷-۲۰۰۶ء  سے نافذ  اسٹیٹ لیک کنزرویشن پلان کے تحت جھیلوں اور پانی کے ذرائع کے تحفظ، صاف  صفائی  اور خوبصورتی کا کام کیا جاتا ہے۔ بلدیاتی ادارے اس اسکیم میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پروجیکٹ کی تجاویز ریاستی حکومت کو جمع کراتے ہیں  اور منظوری کے بعد کام شروع ہو جاتا ہے۔ چھوٹے شہروں اور تاریخی اہمیت کی جھیلوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
 
 
کہا جارہا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ حکومت کی جانب سے سابقہ حکومت کے بعض فیصلوں کو تبدیل کرنے کا حصہ ہے۔ اس سے قبل حکومت نے شندے حکومت کے ’ایک ریاست، ایک یونیفارم‘ فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا اور اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو اسکول یونیفارم کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا تھا۔ مزید برآں  مڈ ڈے میل میں میٹھی چیزسے متعلق پالیسی کو تبدیل کر دیا گیا  اور سرکاری اسپتالوں کی صفائی سے متعلق ۳؍ہزار ۲۰۰؍ کروڑ روپے کے ٹینڈر پر بھی روک لگادی گئی تھی۔یہ تازہ ترین فیصلہ  سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب ان منصوبوں کے تعلق سے سخت رویہ اپنا رہی   ہے جن کے طریقہ کار میں خامی یا تاخیر پائی جارہی ہے، چاہےوہ کسی بھی حکومت کے دور میں منظور کی گئی ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK