Updated: October 09, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو دسمبر میں عروج پر پہنچنے سے پہلے مزید شدت اختیار کرے گا اور یہ ۱۹۵۰ء کے بعد کے شدید ترین واقعات میں سے ایک ہوسکتا ہے۔ اس کے باعث دنیا کے کئی حصوں میں درجۂ حرارت معمول سے زیادہ رہنے، بارشوں کے انداز میں تبدیلی اور خشک سالی و سیلاب کے خطرات بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ہندوستان میں اس سال مون سون کی بارش طویل مدتی اوسط سے ۱۲ء۶؍ فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔
اقوامِ متحدہ سے وابستہ عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے جمعرات کو کہا کہ ایل نینو کا موسمیاتی رجحان دسمبر میں عروج پر پہنچنے سے پہلے مزید شدت اختیار کرے گا۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ یہ ۱۹۵۰ء کے بعد سے اب تک کے سب سے شدید ایل نینو واقعات میں سے ایک ہوسکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی سکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا، ’’ایل نینو پوری طرح قائم ہوچکا ہے اور تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ پیش گوئیوں کے مطابق فروری ۲۰۲۷ء تک اس کے برقرار رہنے کا امکان تقریباً ۱۰۰؍ فیصد ہے اور یہ ۱۹۵۰ء کے بعد کے سب سے شدید واقعات میں سے ایک ہوسکتا ہے۔‘‘ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق دسمبر میں متوقع عروج سے پہلے ایل نینو کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر حصوں میں درجۂ حرارت معمول سے زیادہ رہنے اور بارش کے انداز میں تبدیلی آنے کا امکان ہے۔ اس سے مختلف خطوں میں خشک سالی اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک
ایل نینو کی پیش رفت سے متعلق پیش گوئیوں کے بارے میں تنظیم نے کہا کہ واشنگٹن، ٹوکیو، لندن اور پونے سمیت ۱۳؍ قومی اور بین الاقوامی مراکز کے درمیان اس معاملے پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ یہ پیش گوئیاں سمندر میں نصب بوائز، سیٹیلائٹ اور ریڈیوسونڈ کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے حقیقی وقت میں تبادلے پر مبنی ہیں، جس میں عالمی موسمیاتی تنظیم رابطہ کاری کرتی ہے۔ ہندوستانی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اپنی پیش گوئی میں کہا کہ سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت اس وقت معمول سے خاصا زیادہ ہے، بالخصوص بحرالکاہل کے وسطی مشرقی اور مشرقی حصوں میں۔ یہاں سمندر اور فضا کے درمیان مضبوط باہمی اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جبکہ خطِ استوا کے قریب بحرالکاہل میں ایل نینو کی شدید صورتِ حال برقرار ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق آنے والے مہینوں میں ان حالات کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے اور پیش گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے اختتام تک ایل نینو مزید مضبوط ہوتا رہے گا۔
واضح ہو کہ ایل نینو عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران رونما ہوتا ہے اور تقریباً ۹؍ سے ۱۲؍ ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ موسمی حالات میں ایل نینو اور اس کے برعکس لا نینا کی کیفیت پائی جاتی ہے، جبکہ ان دونوں کے درمیان غیر جانب دار حالات بھی رہتے ہیں۔ فی الحال بحرِ ہند میں انڈین اوشین ڈائی پول (آئی او ڈی) کی غیر جانب دار کیفیت برقرار ہے۔ مون سون مشن کے مربوط پیش گوئی نظام کے اندازوں کے مطابق پیش گوئی کی پوری مدت کے دوران یہ کیفیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: اس ماہ کے ابتدائی۱۵؍ دن، ۳۷؍ ممالک میں ۲۶۲؍ فلسطین حامی پروگرام
ایل نینو ایک موسمیاتی رجحان ہے جس میں بحرالکاہل کے پانی کا درجۂ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اس کے عالمی موسم پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جن میں ہندوستان میں مون سون کے دوران ہونے والی بارشیں بھی شامل ہیں۔ یکم جون سے ۳۰؍ ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون کے موسم میں ہندوستان میں مجموعی بارش طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) سے ۱۲ء۶؍ فیصد کم رہی، جس کے باعث اسے ’’معمول سے کم بارش‘‘ کے زمرے میں رکھا گیا۔ بارش میں یہ کمی ۲۰۱۵ء کے بعد سب سے زیادہ رہی، جب بارش معمول کے معیار سے ۱۲ء۷؍ فیصد کم ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس سے قبل ۲۰۰۲ء میں مجموعی مون سون بارش ۲۰ء۹؍ فیصد، ۲۰۰۹ء میں ۱۸ء۳؍ فیصد، ۲۰۱۵ء میں ۱۲ء۷؍ فیصد اور ۲۰۱۴ء میں ۱۰ء۱۵؍ فیصد معمول سے کم رہی تھی۔ ان برسوں میں بارش کی مجموعی مقدار ’’معمول سے کم‘‘ کے زمرے میں شامل تھی۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی سکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے بنکاک میں منعقدہ گلوبل ہیٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ایل نینو زمین پر نئی حرارت پیدا نہیں کرتا، بلکہ یہ سمندر کی سطح کے نیچے پہلے سے جمع حرارت کو باہر لاتا ہے۔ اسی لیے ایل نینو کا شدید واقعہ اکثر دنیا کے گرم ترین ریکارڈ شدہ برسوں میں سے کسی ایک کا سبب بنتا ہے، جیسا کہ ۲۰۲۴ء میں دیکھا گیا۔‘‘