• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرۂ ارض ۲۰۲۶ء میں مونسٹر ایل نینو کی لپیٹ میں، سوا لاکھ سال کا ریکارڈ ٹوٹا

Updated: August 27, 2026, 10:09 PM IST | New York

کرۂ ارض ۲۰۲۶ء میں مونسٹر ایل نینو کی لپیٹ میں، ایک لاکھ ۲۵؍ ہزار سال کے گرم ترین سال کا ریکارڈ ٹوٹا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایل نینو کے اثرات سردیوں کے موسم میں بھی کم نہیں ہوں گے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دنیا کے سمندر آج  ہولوسین دور (Holocene epoch)  دورکے آغاز یعنی۱۱۷۰۰؍ سال پہلے  سے زیادہ گرم ہیں۔ تاہم ایک ماہر کا ماننا ہے کہ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت درحقیقت گزشتہ ایک لاکھ ۲۵؍ ہزار  سالوں میں سب سے بلند ہو سکتا ہے۔ماحولیاتی مطالعات کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ ۲۰۲۶ءمیں دنیا کے سمندر گزشتہ سوا لاکھ  سال میں سب سے زیادہ گرم ہیں۔ واضح رہے کہ  اس سال ایک مہیب ایل نینو (El Nino) نے کرۂ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے ممالک میں شدید گرمی کی لہریں پیدا ہو رہی ہیں۔ یورپ میں لگاتار ہیٹ ویوز آئیں اور امریکا بھی اس سے محفوظ نہ رہا۔ ایک طرف تباہ کن جنگل میں آگ لگی ہیں تو دوسری طرف انتہائی بارشیں ہوئی ہیں۔جبکہ ماہرین کہتے ہیں کہ اس ایل نینو کے اثرات سردیوں کے موسم میں بھی کم نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: نیدرلینڈز کا غزہ سے متعلق خدشات کے باعث ’یوروویژن ۲۰۲۷ء‘ میں شرکت سے انکار

بعد ازاں ایل نینو نے سمندروں کو بھی گرم کیا ہے، جس سے۲۰۲۶ء میں سطح کا درجہ حرارت۲۱؍درجہ سیلسیس تک پہنچ گیا ہے۔ یہشماریات کے شروع ہونے کے بعد کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ سمندر کی گرمی عموماً مارچ اور اپریل کے ارد گرد عروج پر ہوتی ہے، مگر اس سال اگست میں بھی گرمی برقرار ہے۔اوٹاوا یونیورسٹی کے پروفیسر ریان کیٹز-روزین (Ryan Katz-Rosene) کے مطابق، سمندر کی سطح کا موجودہ درجہ حرارت ممکنہ طور پر ’’پورے ہولوسین دور اور شاید گزشتہ بین البرفی دور (Interglacial) یعنیسوا لاکھ سال قبل تک کے لیے نیا ریکارڈ ہے۔‘‘ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’۲۱ اگست ممکنہ طور پر وہ دن تھا جب سمندر کی سطح کا درجہ حرارت پورے ہولوسین دور اور شاید سوالاکھ سال قبل کے آخری بین البرفی دور کے مقابلے میں گرم ترین رہا۔ یہ بڑی خبر ہونی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کانگو : ایبولا کے متاثرین ساڑھے۵۰۰؍ سے متجاوز، پوپ لیو کا عالمی اقدامات پر زور

واضح رہے کہ یہ درجہ حرارت یورپی یونین کی کوپرنیکس موسمیاتی تبدیلی سروس (C3S) نے درج کیا، اور اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں ہم پر مزید تباہ کن موسمی واقعات حملہ آور ہوں گے۔ بڑے طوفان بن سکتے ہیں، جو شدید بارش اور سیلاب لائیں گے۔ گرم سمندر اس قابل بھی نہیں رہے کہ مزید کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر سکیں، جس سے فضا میں اس کی اضافی مقدار پیدا ہو جاتی ہے۔ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ یہ گرمی اُس اضافے کے علاوہ ہے جو انسان پہلے ہی دنیا کو پہنچا چکے ہیں۔ C3S کی محقق سامانتھا برجیس نے گارجین کو بتایا، ’’نتائج پہلے ہی ظاہر ہیں۱۹۹۰ء کی دہائی کے اوائل سے عالمی سطح پر سمندری گرمی کی لہروں کے دنوں کی تعداد تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔‘‘ سمندر واضح طور پر پریشان حال ہیں، کیونکہ ’’نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن ‘‘ (NOAA) نے بتایا کہ ان میں سے تقریباً۴۲؍ فیصد حصہ سمندری گرمی کی لہروں میں ڈھکا ہے، جو۲۰۲۴ء میں قائم ہونے والے۴۶؍ فیصد کے ریکارڈ قریب پہنچ رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK