• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کو نوٹس

Updated: October 27, 2026, 9:51 AM IST | Agency | New Delhi

ڈرافٹ لسٹ میں۳۳؍ فیصد ووٹرس کےنام حذف کئے جانے پر سپریم کورٹ نے جواب مانگا، مدت میں اضافے کا بھی اشارہ دیا۔

The SIR in Maharashtra is in its final stages. The final list will be released on November 16. Photo: INN
مہاراشٹر میں ایس آئی آر آخری مراحل میں ہے۔ ۱۶؍ نومبر کو حتمی فہرست جاری کی جائےگی۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران ڈرافٹ ووٹر لسٹ  سے ۳۳؍ فیصد نام حذف کئے جانے  کے خلاف پٹیشن پر سپریم کورٹ نے پیر کو الیکشن کمیشن آف انڈیاکو نوٹس جاری کردیا۔چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ   نے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ میں جو (۲۶؍ اکتوبر ۲۶ء تھی)  میں الیکشن کمیشن کا موقف سنے بغیر توسیع کرنے سے انکار کردیا، تاہم یقین دہانی کرائی کہ اگر اسے توسیع ضروری محسوس ہوئی تو آخری تاریخ بڑھائی جاسکتی ہے۔ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کی حتمی فہرست  ۱۶؍ نومبر کو جاری ہوگی ۔سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی شنوائی  ۵؍ نومبر طے کی ہے۔ 

  ۹؍ کروڑ میں سے۳؍ کروڑ  نام حذف

عرضی گزار ارون آنندگیری کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ اروند پی داتار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریاست میں ڈرافٹ  ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد ۹؍ کروڑ ووٹروں میں سے ۳؍کروڑ، یعنی لگ بھگ ۳۳؍ فیصد نام حذف کردیئےگئے ہیں۔ انہوں  نے کورٹ کو آگاہ کیا کہ  ان میں سے۱ء۲۲؍کروڑ  نام بدنام ِ زمانہ ’’منطقی تضاد‘‘ کی بنیاد پر ہٹائے گئے ہیں۔ داتار نے بنچ کو بتایا کہ ممبئی اور پونے میں تقریباً۳؍ ہزار ۵۰۰؍عمارتوں کی تعمیر نو یا باز آباد کاری پر کام جاری ہے۔ اس دوران پرانی  عمارتیں منہدم کی جارہی ہیں اور ہزاروں مکینوں کو دوسری جگہ منتقل ہونا پڑرہا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ پتے اور دیگر تفصیلات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ایسے افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے حذف کئےجاسکتے ہیں۔

 پرانے ووٹرس کیلئے نئے فارم کا مطالبہ

داتار نے  نشاندہی کی کہ جن ووٹرس کے نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں،انہیں الیکشن کمیشن ۶؍ بھر کر نئے سرے سے نام درج کرانےکیلئے کہہ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ یہ فارم پہلی مرتبہ ووٹر بننے والوں کیلئے ہے۔اس میں  درخواست  گزار کو حلفیہ  دستخط کرنے ہوتے ہیں کہ اس نے پہلے کبھی ووٹ نہیں ڈالا ہے۔داتار نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو  ایسے افراد کیلئے  الگ فارم متعارف کرانے کی ہدایت دے۔ انہوں   نے عدالت میں اندیشہ ظاہر کیا کہ پرانے ووٹرس کو فارم ۶؍ بھرنے پر دروغ حلفی کے مقدمہ کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ اس پر اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نےیقین دہانی کرائی کہ  ’’کسی کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔‘‘

ایس آئی آر کی حتمی  لسٹ پر روک کی اپیل

  داتار نے عدالت سے مزید درخواست کی کہ الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹوں کو حتمی شکل دینے سے روکا جائے۔ اس کیلئے انہوں نے دلیل دی کہ حتمی ووٹر لسٹ۱۶؍نومبر کو شائع ہونی ہے جبکہ  حذف شدہ۳؍کروڑ ووٹرس کے نام دوبارہ شامل کرنے میں وقت لگے گا۔انہوں نےایس آئی آر کی حتمی لسٹ کی تاریخ میں توسیع میں کوئی قباحت نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کورٹ کو بتایا کہ مہاراشٹر میں  جلد کوئی  الیکشن  بھی نہیں ہے ۔

عرضی گزار کوکورٹ کی یقین دہانی 

  سینئر ایڈوکیٹ  نے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت میں بھی  توسیع کی درخواست کی، جو پیر کو ختم ہوگئی   تاہم بنچ الیکشن کمیشن کا موقف سنے بغیر کوئی حکم جاری کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئی۔   البتہ چیف جسٹس نے عرضی گزار کو یقین دلایا کہ   ’’فکر نہ کریں۔ آپ نے بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے کیلئے یہاں آکر درست قدم اٹھایا ہے۔ ہم آخری تاریخ میں توسیع کرسکتے ہیں۔ اگر ہمیں معلوم ہوا کہ کچھ لوگ ابھی تک اپنے دستاویزات جمع نہیں کراسکے ہیں تو ہم تاریخ بڑھا دیں گے۔ ایس آئی آر کے پہلے کے معاملات میں بھی ہم تاریخوں میں توسیع کرتے رہے ہیں۔‘‘

 مہاراشٹر ایس آئی آر پر ایک نظر
مہاراشٹر میں ایس آئی آر سے قبل ووٹر لسٹ میں ۷۸ء۹؍کروڑ  نام تھے۔
ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ۷۱ء۷؍ کروڑ نام  ہی شامل  تھے۔ 
 یعنی یس آئی آر کے پہلے  ہی مرحلہ  میں  ۲ء۰۷؍کروڑ نام  حذف کردیئے  گئے۔
اس کے علاوہ ۷۵ء۵۹؍لاکھ ووٹرس  کے نام  ۲۰۰۲ء کی لسٹ سے میپ نہیں ہوسکے۔ 
مزید یہ کہ۴۸ء۶۲؍لاکھ افراد کو ’’منطقی تضاد‘‘  کے زمرہ میں ڈال دیا گیا ۔ 
 اس طرح دونوں زمروں میں شامل ووٹروں کی مجموعی تعداد۲۲ء۱؍کروڑہے۔ مپینگ نہ ہونے یا دستاویز نہ دینے پر بھی حتمی لسٹ سے حذف ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ 
 یعنی مجموعی طور پر جو نام حتمی لسٹ سے حذف ہو سکتے ہیں وہ ۲۹ء۳؍ کروڑ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK