بجلی دو یا جواب دو: بینر لے کر حکام کو متوجہ کرنے کی کوشش، ۷۰۰ ؍سے زائد شہریوں کی دستخط شدہ خط حکام کو سونپا گیا۔
رتیش کامبلے مانڈا کے مصروف ترین چوک پر بجلی کمپنی کے خلاف بینر لے کر کھڑے ہیں-تصویر:آٓئی این این
ٹٹوالا اور اطراف کے علاقوں میں بجلی کے ناقص نظام ،غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کے مسلسل اتار چڑھاؤ کے خلاف عوامی غم و غصہ اب باقاعدہ عوامی تحریک میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ مہاوترن کی مبینہ لاپروائی سے تنگ آکر مقامی شہریوں نے’ جن ہت فاؤنڈیشن‘ کے بینر تلے متحد ہو کر احتجاجی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔اتوار کی صبح ایک نوجوان عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے بھرے چوک میں ہاتھ میں بینر تھامے احتجاج کے لئے کھڑا ہو گیا جو خبر لکھے جانے تک مسلسل ۸؍ گھنٹے سے اپنے مطالبات کے حق میں ڈٹا ہوا تھا جبکہ مانڈا میں بینک آف مہاراشٹر کے سامنے جاری دستخطی مہم کو بھی زبردست عوامی حمایت حاصل ہوئی جہاں صرف ایک دن میں ۷۰۰ ؍سے زائد شہریوں نے مہاوترن کے خلاف اپنے دستخط درج کرا کر بجلی بحران کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔
عیاں رہے کہ مسلم اکثریتی علاقے بنیلی، امبرنی کے علاوہ ٹٹوالا،مانڈا اور اطراف کے علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل بجلی منقطع ہورہی ہے۔دن اور رات دونوں وقت کئی کئی گھنٹے بجلی چلے جانے سے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس سے پریشان ہوکر علاقے کے شہریوں نے جن ہت فاؤنڈیشن بنا کر مہاوترن سے متعدد مرتبہ شکایت کی اس کے باوجود مسلسل بجلی منقطع ہورہی ہے۔اس صورتحال سے دل برداشتہ ہوکر رتیش کامبلے مانڈا کے مصروف ترین چوک پر بجلی کمپنی کے خلاف ایک بینر لے کر کھڑا ہو گیا۔ وہاں سے گزرنے والے ہر شخص نے اس کے احتجاج کی تائید کی۔
واضح رہے کہ جہاں ایک طرف بجلی کمپنی صارفین سے بھاری بلوں کی بروقت وصولی کیلئے کوئی رعایت نہیں دیتی وہیں دوسری طرف بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹیکس اور بل تو ہم پورے دیتے ہیں مگر سہولتیں آدھی بھی نہیں ملتیں۔ یہ تضاد نہ صرف عوامی غصے کا بنیادی سبب ہے بلکہ بجلی کمپنی کی کارکردگی پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔
رتیش کامبلے کی قیادت میں جاری یہ تحریک بلاشبہ عوامی بیداری کی ایک مثال ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بھی بنیادی سہولت کیلئے شہریوں کو سڑکوں پر آنا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟ ٹٹوالا کی یہ صورتحال بتاتی ہے کہ مقامی انتظامیہ اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان رابطے کا فقدان ہے۔