منگل کی شب میں سنی بلال مسجد میں آل انڈیا سنّی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کے اشتراک سے جشن میلاد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ متعدد علماء نےخطاب کیا۔
سنّی بلال مسجد میںمنعقدہ میلا د کانفرنس کا منظر۔ تصویر: آئی این این
رسول ِاکرمؐ کی تعلیمات پرعمل آوری میں ہی دنیا وآخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ منگل کی شب میں سنی بلال مسجد میں آل انڈیا سنّی جمعیۃ العلماء اوررضااکیڈمی کے اشتراک سے جشن میلاد کانفرنس کا انعقادکیا گیا۔ علماء نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو عشقِ رسول سے وابستہ کرنے اور اتحادِ امت پربطور خاص زوردیا۔
مولانا الحاج الشاہ سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نےاپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ ’’میلاد النبی کانفرنس کے انعقاد کامقصد حضورؐکی تعلیمات کو عام کرنا اور یہ بتا نا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ ‘‘ معین میاں نے یہ بھی کہاکہ ’’دورِ حاضر میں نوجوان نسل کو عشق ِرسولؐ سے وابستہ کرنے اور اتحادِ امت کی اشد ضرورت ہے۔ ‘‘مولانا سید خلیق اشرف نے کہا کہ ’’آج کا دن ہمیں اس عظیم ہستی کی ولادتِ باسعادت کی یاد دلاتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کربھیجا۔ میلادالنبی ؐ محض ایک جشن یا سالانہ تقریب نہیں بلکہ حضور رحمتِ عالمؐ کی سیرت کو یاد کرنے، آپؐ کی تعلیمات کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کا پیغام ہے۔ ‘‘
الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ’’اس کانفرنس کا مقصد آپؐ کی سیرت کو یاد کرکے اس پر عمل کرنا اور ایک عملی تحریک کو فروغ دینا ہے جس سے ہمارے سماج اور معاشرہ سے برائیوں کا خاتمہ ہو اور حضور ؐکی سیرت نوجوانوں نسل کے لئے مشعل ِراہ ثابت ہو۔ ‘‘قاری مشتاق احمد تیغی نے کہا کہ’’ آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اس کی ہے کہ عشقِ رسول ؐکو اخلاق، کردار، عبادات، معاملات، معاشرت اور خدمتِ خلق کے ذریعے عملی زندگی میں ظاہر اوراسے عام کیا جائے۔ ‘‘مولانا عباس رضوی نے کہا کہ ’’موجودہ دور میں نوجوان نسل مختلف فکری، تہذیبی اور سوشل میڈیا کے خرافات سے دوچار ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ سیرتِ مصطفیٰ ؐکی روشنی میں ایسا مضبوط فکری و اخلاقی نظام فراہم کیا جائے جو انہیں دین سے قریب کرے۔ ‘‘
مولاناظفر الدین رضوی نے کہا کہ ’’مسلمانوں کے تمام طبقات کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر قرآن و سنت، محبتِ رسولؐ اور ملت کی اجتماعی بھلائی کے لئے متحد ہونا چاہئے، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ‘‘
اس موقع پریہ تجویز پیش کی گئی کہ رضا اکیڈمی اور آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے تحت ’’سیرت کمیٹی ‘‘بنائی جائے جہاں مستند اورتحقیقی کام ہو اور اسے مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے۔ اخیر میں معین المشائخ نے ملک و ملت، عالمِ اسلام اور پوری انسانیت کیلئے خصوصی دعاء کروائی۔ بانیٔ رضا اکیڈمی کےصاحبزادہ معروف نعت خواں مولانا احمد رضا عرف نوری میاں نے بارگاہ رسالت میں نعت پیش کی جبکہ نظامت مولانا عبدالرحیم اشرفی نے کی۔
کانفرنس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔