Updated: August 06, 2026, 9:02 PM IST
| New Delhi
ای پی ایس ۹۵ (امپلائی پنشن اسکیم ۹۵)کے تحت پنشن حاصل کرنے والے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو سخت الٹی میٹم دیا ہے۔ EPS-95 National Agitation Committee (NAC) نے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم ماہانہ پنشن کو موجودہ ایک ہزار سے بڑھا کر ۷۵۰۰؍ کیا جائے، اس کے ساتھ Dearness Allowance (DA) اور طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں EPFO دفاتر کے سامنے احتجاج، ’’جیل بھرو‘‘ تحریک، غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال اور دیگر احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے۔
نئی دہلی کے جنتر منتر پر بدھ کے روز ملک بھر سے آئے ہزاروں EPS-95 پنشنرز نے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی برسوں پرانی پنشن کی تحریک کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا۔ شدید گرمی اور بارش کے باوجود معمر مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات جلد تسلیم نہ کیے گئے تو تحریک کو ملک گیر سطح تک وسعت دی جائے گی۔ احتجاج کی قیادت EPS-95 National Agitation Committee (NAC) نے کی، جس کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً ۸۱؍ لاکھ پنشنرز اس اسکیم سے وابستہ ہیں، مگر ان میں سے کئی افراد آج بھی صرف، ۵۰۰، ۷۰۰؍ یا ایک ہزار ماہانہ پنشن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ تنظیم کا بنیادی مطالبہ ہے کہ کم از کم ماہانہ پنشن ۷۵۰۰؍ مقرر کی جائے، اس کے ساتھ Dearness Allowance (DA)، مفت یا مناسب طبی سہولیات اور دیگر سماجی تحفظ کے فوائد بھی فراہم کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی: راہل گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کی اجازت منسوخ
این اے سی کے قومی صدر کمانڈر اشوک راؤت نے کہا: ’’ہم بھیک نہیں مانگ رہے۔ ہم نے ۳۰، ۳۵؍ اور ۴۰؍ برس تک کام کیا، اپنی تنخواہ سے باقاعدگی سے حصہ جمع کرایا۔ آج کئی پنشنرز صرف ۵۰۰؍ یا ۷۰۰؍ روپے ماہانہ پر زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ کیا حکومت کو ہماری کوئی فکر نہیں؟‘‘ بنگال یونٹ کے صدر تپن دتہ نے کہا کہ ’’ہم گزشتہ دس برس سے جنتر منتر اور رام لیلا میدان آ رہے ہیں۔ جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے، ہم دہلی پہنچتے ہیں۔ ہر مرتبہ ہمیں یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ہمارا مطالبہ جائز ہے اور جلد فیصلہ ہوگا، لیکن بارہ برس گزرنے کے باوجود کچھ نہیں بدلا۔‘‘
احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت کو واضح انتباہ دیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پہلے ملک بھر میں Employees’ Provident Fund Organisation (EPFO) کے دفاتر کے سامنے احتجاج ہوگا، اس کے بعد ’’جیل بھرو‘‘ تحریک چلائی جائے گی۔ بعض لیڈروں نے یہاں تک کہا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال اور پارلیمنٹ کے سامنے خودسوزی جیسے انتہائی اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیانات احتجاجی لیڈروں کے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مظاہرین نے یہ بھی یاد دلایا کہ ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بھارتیہجنتا پارٹی نے کم از کم ۳؍ ہزار ماہانہ پنشن کا مطالبہ کیا تھا اور اس وقت ایک ہزار کی مجوزہ پنشن کو ’’بہت کم اور ناکافی‘‘ قرار دیا تھا۔ احتجاجی لیڈروں کا کہنا ہے کہ اسی وعدے پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی حمایت کی، لیکن ستمبر ۲۰۱۴ء میں کم از کم پنشن ایک ہزار مقرر کی گئی، جو آج تک نہیں بڑھی۔
یہ بھی پڑھئے: رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدید تر، مزید ۵؍ بھوک ہڑتال پر بیٹھے
مظاہرین نے بھگت سنگھ کوشیاری کمیٹی کی سفارشات کا بھی حوالہ دیا، جس میں پنشن میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم مرکزی وزارتِ محنت نے ۲۰۲۳ء میں راجیہ سبھا میں اپنے جواب میں کہا تھا کہ سفارشات پر ’’انتظامی اور مالی امکانات‘‘ کے مطابق عمل کیا گیا، جبکہ کم از کم پنشن میں اضافے کے مطالبے پر مالی وسائل کی محدود دستیابی کو وجہ قرار دیا گیا۔ احتجاجی لیڈروں کے مطابق EPS-95 صرف سرکاری اداروں کے سابق ملازمین تک محدود نہیں بلکہ اس میں PSUs، نجی کمپنیاں، ملٹی نیشنل کمپنیاں، چائے کے باغات، جوٹ ملز، شوگر ملز، کاغذی صنعت اور بیڑی صنعت کے لاکھوں سابق کارکن بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد اپنی ملازمت کے دوران باقاعدگی سے اسکیم میں حصہ ڈالتے رہے، اس لیے انہیں باوقار پنشن ملنی چاہیے۔
ادھر مرکزی حکومت کا مؤقف ہے کہ مختلف تنظیموں، مزدور یونینوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے کم از کم پنشن بڑھانے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، تاہم ابھی اس حوالے سے کسی اضافے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ EPFO بھی اس سے قبل مالی وسائل کی محدود دستیابی کا حوالہ دیتے ہوئے پنشن میں اضافے سے متعلق درخواستیں مسترد کر چکا ہے۔