Updated: August 13, 2026, 7:03 PM IST
| Ankara
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد فلسطین کی آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے لیے اپنی حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی ایک خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے لیے ’’پُرعزم‘‘ انداز میں کام کرتا رہے گا۔ اردگان نے اسرائیلی حکومت پر فلسطین کو عالمی ایجنڈے سے ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگی۔
فلسطینی صدر محمود عباس، ترک صدر رجب طیب اردگان۔ تصویر: آئی این این
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ۱۲؍ اگست کو انقرہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی ایک خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ’’پُرعزم‘‘ انداز میں کام کرتا رہے گا۔ اردگان نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے وجود کو کمزور کر رہا ہے اور عالمی برادری اس صورتحال کو نظرانداز یا اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت پر فلسطین کو عالمی توجہ سے ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیتن یاہو حکومت خطے میں افراتفری اور نئے تنازعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین کو انسانیت کے مشترکہ ایجنڈے سے ہٹانا چاہتی ہے، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوگی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۱۲؍ اگست سورج گہن: اسپین میں ۱۲۱؍ سال، آئس لینڈ میں ۵۹۳؍ سال بعد مکمل گہن
ترکی کے صدر نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ سمیت اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دی جانے والی کارروائیوں کی بھی مخالفت کی۔ انہوں نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی جانب سے جاری ’’غیر قانونی‘‘ اقدامات کی مذمت کی۔ اردگان نے فلسطین کی حمایت کو صرف مسلم ممالک کا معاملہ قرار دینے کے بجائے وسیع عالمی ذمہ داری سے جوڑتے ہوئے کہا: ’’فلسطین کی حمایت پوری انسانیت، خصوصاً مسلم دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘‘ انہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے اور علاقے میں سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: ۱۷؍ سال بعد اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال
انہوں نے کہا کہ ترکی فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے حقوق کے دفاع کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ اردگان کے مطابق کسی بھی پائیدار حل میں فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان برقرار رہنا ضروری ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس ترکی کے سرکاری دورے پر انقرہ پہنچے تھے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ’’بہت اہم‘‘ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔ عباس نے فلسطینی حقوق اور فلسطینی کاز کے لیے ترکی کی حمایت پر اردگان اور ’’برادر ملک ترکی‘‘ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انقرہ میں ہونے والی ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب ترکی فلسطین اور غزہ کے مستقبل کے معاملے پر اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔