ایتھنول تیار کرنے والوں نے خام مال اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کے درمیان پیر کو ای ۲۰؍ پروگرام کے لیے خاطر خواہ فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 9:06 PM IST | New Delhi
ایتھنول تیار کرنے والوں نے خام مال اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کے درمیان پیر کو ای ۲۰؍ پروگرام کے لیے خاطر خواہ فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔
آئیڈا کے صدر وجیندر سنگھ نے سالانہ عام میٹنگ کے بعدکہا کہ گنے سے ایتھنول بنانے پر پابندی لگانے سے سالانہ ۲۰۰؍ کروڑ لیٹر کی دستیابی کم ہوجائے گی۔ مکئی سے زیادہ ایتھنول تیار کرکے اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے، لیکن مکئی کی بڑھی ہوئی قیمت اور اس سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت کم کرنے سے صنعت کو اس سلسلے میں منفی اشارہ ملا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آہان پانڈے کی اگلی فلم’ ’بے پروا‘‘ کا اعلان، شروری کے ساتھ پہلی بار جوڑی بنائیں گے
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال مکئی تقریباً ۱۹؍ روپے فی کلوگرام کی قیمت پر دستیاب تھی، جو اس سال بڑھ کر تقریباً ۲۷؍ روپے فی کلوگرام ہوگئی ہے۔ وہیں، حکومت نے مکئی سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت میں ۳؍ روپے فی لیٹر کی کمی کی ہے۔ اس سے منفی اثر پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ ہفتے ایتھنول کی خریداری کی قیمتوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ شرح ہے جس پر تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں پٹرول میں ملانے کے لیے ایتھنول خریدتی ہیں۔ مکئی سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت۸۶ء۷۱؍ روپے سے گھٹا کر۸۶ء۶۸؍ روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ وہیں، فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے مختص کیے گئے چاول سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت۵۰ء۵۸؍ روپے سے بڑھا کر۳۲ء۶۰؍ روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، جبکہ ٹوٹے ہوئے چاول سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت ۶۴؍ روپے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بھونیشور کو توقعات کے دباؤ سے باہر نکلنا ہوگا: مورکل
سنگھ نے کہا کہ ڈسٹلری صنعت مکئی سے تیار ہونے والے ایتھنول کی قیمت ۷۵؍ روپے فی لیٹر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی لاگت کے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث پہلے ہی اناج کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایندھن اور مزدوری کی لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔ مجموعی طور پر ایتھنول کی تیاری کی لاگت میں تقریباً ۱۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس سے پہلے، گنا اور خوردنی تیل کے ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر اروند کمار راوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کو تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی ترجیح کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ سنگھ نے پروگرام میں موجود صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ ای ۲۰؍ کے لیے درکار ۱۱۰۰؍ کروڑ لیٹر کی سالانہ فراہمی یقینی بنانے کی پوری کوشش کریں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ای ۲۰؍ ایندھن کے بعد ملک میں فلیکسی فیول گاڑیوں کو بھی فروغ دیا جائے۔