ہندوستانی ٹیم کے گیند بازی کے کوچ مورنے مورکل کا خیال ہے کہ گزشتہ دو میچوں میں ایک وکٹ لینے والے تیز گیند باز بھونیشور کمار کو توقعات کے دباؤ سے باہر نکلنا ہوگا۔ ان کے پاس مہارت اور تجربہ ہے، انہیں اپنی لے حاصل کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi
ہندوستانی ٹیم کے گیند بازی کے کوچ مورنے مورکل کا خیال ہے کہ گزشتہ دو میچوں میں ایک وکٹ لینے والے تیز گیند باز بھونیشور کمار کو توقعات کے دباؤ سے باہر نکلنا ہوگا۔ ان کے پاس مہارت اور تجربہ ہے، انہیں اپنی لے حاصل کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔
ہندوستانی ٹیم کے گیند بازی کے کوچ مورنے مورکل کا خیال ہے کہ گزشتہ دو میچوں میں ایک وکٹ لینے والے تیز گیند باز بھونیشور کمار کو توقعات کے دباؤ سے باہر نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس مہارت اور تجربہ ہے، انہیں اپنی لے حاصل کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔
تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ سے پہلے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے مورکل نے کہا کہ د یکھیے، ان کی واپسی کے معاملے میں مجھے ان سے پوری ہمدردی ہے۔ میں ایسا اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ چار سال بعد واپسی کرنے پر ان سے توقعات وابستہ ہونا فطری ہے۔ انہوں نے آئی پی ایل میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کی گیند بازی بھی بہت اچھی رہی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ انہیں توقعات کے دباؤ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ ان کے انتخاب سے پہلے تقریباً ایک ماہ تک کرکٹ کھیلا گیا۔ ہاں، انہوں نے مشق کی تھی، لیکن بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا بالکل الگ چیلنج ہے، جہاں چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ مصروف پروگرام کے باعث انہیں خود کو تیار کرنے کے لیے مشق کا محدود وقت ہی ملا۔ بھونیشور ۳۶؍ سال کے ہیں اور جلد ہی ۳۷؍ سال کے ہوجائیں گے۔ نومبر ۲۰۲۲ء کے بعد یہ ہندوستان کے لیے کسی بھی طرز کی کرکٹ میں ان کا پہلا میچ تھا۔ تاہم، آئی پی ایل کے مسلسل دو کامیاب سیزن کے بعد انہوں نے ہندوستانی ٹیم میں واپسی کی۔ ان کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلورو نے مسلسل دو خطاب جیتے اور اس دوران بھونیشور نے بالترتیب ۱۷؍ اور ۲۸؍ وکٹ حاصل کئے۔
انہوں نے کہاکہ ان کے پاس مہارت بھی ہے اور تجربہ بھی۔ لیکن آخر میں ہمیں کرکٹ کے کھیل کا احترام کرنا ہوگا اور انہیں چند میچوں میں اپنا فارم حاصل کرنے کا وقت دینا ہوگا۔ جب سے وہ ٹیم میں آئے ہیں، تب سے میرا یہی پیغام رہا ہے کہ کسی چیز کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اپنے جیسے بنے رہو۔ ہاں، توقعات رہیں گی، لیکن ہر میچ کے ساتھ آپ بہتر ہوتے جائیں گے اور اپنی لے حاصل کرلیں گے۔ اس لیے باہر کی باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پوری طرح حکمت عملی کے تحت کیا گیا ردوبدل تھا۔ ہمیں لگا کہ اس میدان پر اس کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پرنس آخری اووروں میں یارکر گیندیں ڈالنے میں بہت اچھے ہیں۔ ہمیں لگا کہ پہلے میچ سے ملنے والے سبق کی بنیاد پر اگر ہمیں دوسری اننگز میں گیند بازی کرنی پڑے، گیند گیلی ہو اور میدان کے سائز کو بھی مدنظر رکھنا ہو، تو ایسے گیند باز کی ضرورت ہوگی جس کی یارکر گیندیں درست جگہ پر پڑنے کا امکان زیادہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ فلم فیسٹیول :پانچ فلسطینی خواتین ہدایت کاروں کی فلمیں پیش کی جائیں گی
انہوں نے کہاکہ مجھے لگا کہ مینک نے پہلے میچ میں بہت اچھی گیند بازی کی تھی۔ اس لیے یہ تبدیلی ان کی کارکردگی کی وجہ سے بالکل نہیں کی گئی لیکن میرے خیال میں مینک جیسے نوجوان کھلاڑی کے لیے کبھی کبھی ایک میچ کھیل کر کچھ وقت لینا، اپنی کارکردگی پر غور کرنا اور گیند بازی کو سمجھنا اچھا ہوتا ہے۔ وہ ابھی ناتجربہ کار کھلاڑی ہیں اور انہیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ میچ کی صورت حال کو کیسے سمجھنا ہے اور ہر اوور کی منصوبہ بندی کیسے کرنی ہے۔ اس لیے میرے خیال میں کسی نوجوان کھلاڑی کے لیے یہ بری بات نہیں ہے۔ پرنس تیز گیند بازی کرسکتے ہیں اور میچ کے ہر مرحلے میں گیند بازی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی گیندوں کو درست جگہ پر ڈالنے کی صلاحیت بھی قدرے بہتر ہے۔
مورکل نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ ہوا اپنے آپ میں ایک الگ ہی چیلنج ہے۔ آج صبح میں ہوٹل میں تھا اور پوری عمارت ہل رہی تھی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ ایک نئی چیز ہوگی، جس کے کھلاڑیوں کو عادی ہونا پڑے گا۔ ہمارے پاس تیاری کے لیے بھی بہت کم وقت ہوگا۔ لیکن ہم اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پُرجوش ہیں اور بہانے بنانے کے بجائے اس سے براہ راست نمٹنا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہوا کئی چیزوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس کا اثر بلے بازی اور آپ کے کھڑے ہونے کے انداز پر پڑسکتا ہے۔ کئی دوسری چیزیں بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا، آپ کے پاس وارم اپ اور مشق کے لیے تھوڑا وقت ہوگا، جس میں آپ یہ سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ ہوا آپ پر کس طرح اثر انداز ہورہی ہے۔ لیکن میچ کے وقت آپ کو ان باتوں کو ذہن سے نکال کر ہر گیند درست جگہ پر ڈالنے اور ہر گیند سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:ایل کلاسیکو میں ریئل میڈرڈ کی شاندار فتح، بارسلونا کو ۱۔۲؍گول سے شکست
مورکل نے خود ویلنگٹن کے بیسن ریزرو میں دو ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ اس علاقے میں پہلے نہیں کھیلنے والے ہندوستانی کھلاڑیوں کے لیے ان کے پاس کچھ مشورے بھی ہیں۔ مورکل نے کہا کہ دورے کے آغاز سے پہلے ہی ہم نے ویلنگٹن کے حالات کے بارے میں بات کی تھی اور کھلاڑیوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی۔ کل رات ہندوستان میں موجود کچھ کھلاڑیوں نے مجھ سے پوچھا کہ وہاں کے حالات کیسے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ گھر میں ایک بہت تیز پنکھا لگوا لو اور اس کے سامنے چلنے کی عادت ڈالو، کیونکہ یہی تمہاری تیاری ہوگی۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ جب میں جنوبی افریقہ کے ساتھ یہاں دورے پر آیا تھا، تو ہم نے ان حالات کا عادی ہونے کے لیے کچھ طریقے اپنائے تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی دو، تین یا چار دن میں ان حالات کا عادی ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہم پوری صورت حال کو کس نظریے سے دیکھتے ہیں، یہ اہم ہوگا۔ آپ اسے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ سکتے ہیں یا اسے منفی سمجھ سکتے ہیں، جس سے آپ کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔ امید ہے کہ ہم کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر اس صورت حال کے لیے تیار کرپائیں گے، تاکہ وہ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پُرجوش رہیں۔ آخر میں کسی نہ کسی کو آگے آکر ہوا کے خلاف گیند بازی کرنی ہوگی، کیونکہ ہم چاروں گیند بازوں کو ہوا کے ساتھ گیند بازی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔