Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایتھوپیا: ۱۲؍ سال بعد ماں بننے کا خواب حقیقت بنا، پانچ بچوں کو جنم دیا

Updated: May 08, 2026, 10:11 PM IST | Adis Ababa

بدریہ ادیم نامی ایتھوپیائی خاتون نے ۱۲؍ سال تک اولاد کے انتظار کے بعد ایک ساتھ پانچ بچوں کو جنم دیا ہے۔ ہراری علاقے کے ایک اسپتال میں سیزرین آپریشن کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں میں چار لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ اسپتال کے مطابق تمام نومولود مکمل طور پر صحتمند ہیں اور ان کا وزن ۳ء۱؍ سے ۴ء۱؍ کلوگرام کے درمیان ہے۔ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے صرف ایک بچے کیلئے دعا کی تھی لیکن اللہ نے انہیں پانچ بچوں کی نعمت عطا کی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بدریہ ادیم نے ۱۲؍ سال تک اولاد کے انتظار اور مسلسل دعاؤں کے بعد ایتھوپیا کے ہراری میں پانچ بچوں کو جنم دے کر خوشی اور امید کی نئی داستان رقم کی۔ ۳۵؍ سالہ بدریہ نے ایک ساتھ چار لڑکوں اور ایک لڑکی کو جنم دیا، جس کے بعد پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسپتال حکام کے مطابق ماں اور تمام بچے مکمل طور پر صحتمند ہیں اور طبی نگرانی میں ہیں۔ بدریہ نے بی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں اپنی خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے صرف ایک بچے کے لیے دعا کی تھی لیکن اللہ نے مجھے پانچ عطا کیے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ۱۲؍ برس ان کے لیے شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ کا باعث رہے۔ ان کے مطابق وہ مسلسل معاشرتی دباؤ، مایوسی اور اولاد نہ ہونے کے باعث تنہائی کا شکار رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہنٹا وائرس: ۵ ممالک میں الرٹ، ڈبلیو ایچ او کی مزید کیسز کی وارننگ؛ صورتحال قابو میں ہے:ٹرمپ کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ۱۲؍ سال تک انتظار کیا اور ہر وقت بچوں کے لیے دعائیں کرتی رہی۔ اب لگتا ہے جیسے ماضی ایک دور کا خواب تھا جسے یاد بھی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر محمد نور عبدالحئی نے بتایا کہ بچوں کی پیدائش منگل کی شام سیزرین آپریشن کے ذریعے ہوئی۔ ان کے مطابق ہر بچے کا وزن تقریباً ۳ء۱؍ سے ۴ء۱؍ کلوگرام کے درمیان ہے، جو اس قسم کی نایاب پیدائش کے لحاظ سے حوصلہ افزا سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد نور عبدالحئی نے بتایا کہ حمل مکمل طور پر قدرتی تھا۔ اس میں آئی وی ایف یا کوئی مصنوعی طریقہ نہیں استعمال کیا گیا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایسے نومولود بچے جن کا وزن ایک کلوگرام سے زیادہ ہو، ان کے زندہ رہنے اور صحت مند نشوونما کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔
بدریہ نے بتایا کہ ابتدائی طبی معائنے میں انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ چار بچوں کی ماں بننے والی ہیں، تاہم زچگی کے وقت ڈاکٹروں کو ایک پانچواں بچہ بھی ملا، جس پر خاندان حیران رہ گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہر کی پہلی شادی سے ایک بچہ پہلے سے موجود تھا، لیکن وہ لاولد ہونے کے باعث اندرونی طور پر شدید دباؤ محسوس کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میرے شوہر ہمیشہ کہتے تھے کہ ایک بچہ کافی ہے اور مجھے پریشان یا ذہنی تناؤ کا شکار نہیں ہونا چاہیے، لیکن پورا گاؤں سوال اٹھاتا تھا کہ میں لاولد کیوں ہوں۔ اس نے مجھے نفسیاتی طور پر بہت متاثر کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ترک وطن بحران نہیں، منظم حل میں دنیا کی اجتماعی ناکامی اصل بحران ہے: غطریس

بدریہ، جو پیشے کے لحاظ سے کاشتکار ہیں، نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنے بڑے خاندان کے اخراجات کے حوالے سے فکرمندی ہے، لیکن وہ پُرامید ہیں کہ اللہ تعالیٰ، حکومت اور برادری کی مدد سے وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں گی۔نومولود بچوں کے نام نائف، عمار، منذر، نذیرہ اور انصار رکھے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK