حبرون کے علاقے تل رمیدہ میں اسرائیلی فورسیز کی فائرنگ سے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک فلسطینی خاندان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں ایک سات ماہ کا شیرخوار بچہ جان کی بازی ہار گیا جبکہ اس کے والدین بھی زخمی ہوئے۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 3:04 PM IST | Tal Aviv
حبرون کے علاقے تل رمیدہ میں اسرائیلی فورسیز کی فائرنگ سے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک فلسطینی خاندان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں ایک سات ماہ کا شیرخوار بچہ جان کی بازی ہار گیا جبکہ اس کے والدین بھی زخمی ہوئے۔
سات ماہ کے شیرخوار بچے سام فہد ابو ہیکل جمعہ کی شام اُن شدید زخموں کے باعث انتقال کر گئے جو انہیں اُس وقت لگے جب اسرائیلی فورسیز نےحبرون میں ان کی فیملی کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ وزارتِ صحت کے مطابق بچے ابو ہیکل، ان کی والدہ اور والد کو جمعہ کی شام جنوبی حبرون کے علاقے تل رمیدہ میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے گاڑی پر فائرنگ کے بعد گولیاں لگیں۔ بچے کے والد، فہد عبدالعزیز ابو ہیکل، جو بیت لحم یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں، اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ بیت لحم میں رہائش پذیر ہیں۔ خاندان اپنی والدہ کے گھر تل رمیدہ محلے (مرکزی حبرون) کی طرف جا رہا تھا کہ اسی دوران ایک اسرائیلی فوجی نے ان کی گاڑی پر براہِ راست فائرنگ کی۔ اس واقعے میں والد کے ہاتھ پر زخم آیا، جبکہ ایک ہی گولی سے والدہ اور ان کا شیرخوار بچہ سام زخمی ہوئے، جو بچے کے جبڑے میں لگی۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی: نوجوان کے بینک اکاؤنٹ میں اچانک ۲۱؍ ارب ڈالر آگئے!
اسرائیلی فوج (IDF) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:’’حبرون کے علاقے میں جاری آپریشن کے دوران، آئی ڈی ایف کے فوجیوں نے ایک گاڑی کو ان کی طرف تیزی سے آتے ہوئے محسوس کیا۔ ایک فوجی نے گاڑی کی طرف چند گولیاں چلائیں۔ نتیجتاً تین فلسطینی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلئے منتقل کیا گیا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ابتدائی تحقیقات کے مطابق زخمی ہونے والے غیر متعلقہ شہری تھے۔ واقعہ زیرِ تفتیش ہے اور نتائج متعلقہ حکام کو پیش کئےجائیں گے۔ ‘‘