Inquilab Logo Happiest Places to Work

خلیجی اتحادی یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت نہیں کر رہے ہیں: یورپی یونین

Updated: April 11, 2026, 10:05 PM IST | New York

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے ایک بیان میں کہا کہ خلیجی اتحادی ممالک یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت نہیں کر رہے ہیں،ساتھ ہی انہوں نے مشترکہ ذمہ داری کا مطالبہ بھی کیا۔

European Union foreign policy chief Kaja Kallas. Photo: X
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس۔ تصویر: ایکس

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے کہا ہے کہ یورپ کو روس کی یوکرین جنگ پر خلیجی ممالک سے کافی حمایت حاصل نہیں ہوئی، اور زور دیا کہ اتحادیوں کے درمیان تعاون باہمی ہونا چاہیے، یک طرفہ نہیں۔کلاس نے جمعہ کو سی این این کو انٹرویو میں کہا، ’’ہم نے نہیں دیکھا کہ خلیجی ممالک نے ہمیں اس میں مدد کی ہے،‘‘ انہوں نے روس-یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون یک طرفہ نہیں ہو سکتا۔‘‘یو رپی یونین کی بے عملی پر تنقید کے جواب میں انہوں نےبلاک کے علاقائی سلامتی میں کردار کا دفاع کرتے ہوئے کلاس نے کہا کہ یورپ نے نہ تو ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ شروع کی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی بندش کا سبب بنا۔انہوں نے کہا،’’ آئیے ایماندار بنیں، ہم نے یہ صورتحال پیدا نہیں کی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جنگی اثرات سے نمٹنے کا فیصلہ، جنوبی کوریا کا ۲ء۲۶؍ ٹریلین وون کا بجٹ منظور

 بحیرہ احمر کو کھلا رکھنے کے لیے بحری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ لبنانی مسلح افواج کی حمایت، دو ریاستی حل اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کلاس نے کہا کہ’’ یورپی یونین علاقے کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے فضائی دفاعی نظاموں اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے بھی تعاون کیا ہے، اور دلیل دی کہ یورپ کے کردار پر تنقید واقعی نا انصافی ہے۔کلاس نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ بعض ممالک نے ایران پر پابندیوں کو نظرانداز کرنے میں مدد کی ہے، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات کے وسیع تر سلامتی اثرات ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شراکت داروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت ہے، اور مزید کہا کہ مخالفین ایک ساتھ مل کر زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں۔مزید برآں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ نیٹو اجتماعی دفاع کی بنیاد ہے۔بعد ازاں کلاس نے خبردار کیا کہ اندرونی اختلافات اور غلط فہمیوں کے سبب اتحاد کے کمزورہونے کا خطرہ ہے، اور کہا کہ جب ہم اکٹھے نہیں ہوتے، تو ہم کمزور ہوتے ہیں۔  افغانستان اور عراق میں امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئےانہوں نے یورپ کے ماضی کے فوجی تعاون کو بھی اجاگر کیا، کہا کہ سینکڑوں ہزار یورپی فوجیوں نے لڑائی لڑی کیونکہ امریکہ نے ہم سے کہا، جبکہ انہوں نے ان کوششوں پر تنقید کو غلط اور ناانصافی قرار دیا۔تاہم، کشیدگی کے باوجود، کلاس نے کہا کہ یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے درمیان تعاون مضبوط ہو رہا ہے، خاص طور پر سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں۔انہوں نے جاری شراکت داری کو دونوں طرف کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔اس کے علاوہ کلاس نے زور دیا کہ غیر مستحکم عالمی سلامتی کے ماحول میں، اتحادیوں کے درمیان اتحاد برقرار رکھنا، استحکام کو یقینی بنانے اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں ایران جنگ بندی مذاکرات، امریکی افواج مشرق وسطیٰ روانہ

واضح رہے کہ خطے میں علاقائی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی۔جس کے بعد تہران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ساتھ جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰمیں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا، اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔تاہم پاکستان نے جنگ کے ۴۰؍ دن گزرنے کے بعد ترکی، چین، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر اس ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتے کا جنگ بندی معاہدہ کرانے میں کامیابی حاصل کرلی۔اس معاہدے کے تحت، دونوں فریق سنیچر کو اسلام آباد میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK