• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوروبارومیٹر سروے: دو تہائی یورپی سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک کو خطرہ لاحق ہے

Updated: February 16, 2026, 3:05 PM IST | Munich

تازہ فلیش یوروبارومیٹر سروے کے مطابق یورپی یونین کے ۲۷؍  رکن ممالک میں دو تہائی سے زائد شہریوں کا خیال ہے کہ ان کا ملک کسی نہ کسی خطرے سے دوچار ہے۔ اکثریت نے دفاع اور سلامتی کے معاملات میں یورپی یونین پر اعتماد کا اظہار کیا اور دفاعی اخراجات میں اضافے کی حمایت کی۔ سروے میں خلائی پالیسی کو بھی سیکوریٹی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

یورپی یونین میں سلامتی اور دفاع کے حوالے سے عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ جمعہ کو جاری ہونے والے تازہ ترین فلیش یوروبارومیٹر سروے کے مطابق، یورپی یونین کے ۲۷؍ رکن ممالک میں دو تہائی سے زائد شہریوں کا ماننا ہے کہ ان کا ملک کسی نہ کسی خطرے سے دوچار ہے۔ یہ سروے جنوری کے اوائل میں منعقد کیا گیا، جس میں خطے بھر کے شہریوں سے قومی اور ذاتی سلامتی کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ۶۸؍ فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ ان کا ملک خطرے میں ہے۔ یہ احساسِ عدم تحفظ مختلف ممالک میں مختلف شدت کے ساتھ موجود ہے۔ فرانس میں سب سے زیادہ ۸۰؍ فیصد شہریوں نے اپنے ملک کو خطرے سے دوچار قرار دیا۔ اس کے بعد نیدرلینڈز اور ڈنمارک میں ۷۷؍ فیصد، جبکہ یونانی قبرصی انتظامیہ اور جرمنی میں ۷۵؍ فیصد افراد نے اسی نوعیت کی تشویش ظاہر کی۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ یورپ کے کئی حصوں میں جغرافیائی، سیاسی یا سلامتی سے متعلق خدشات عوامی ذہنوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد فلسطینی ایکشن کی حمایت پر گرفتاری نہیں

صرف قومی سطح ہی نہیں بلکہ ذاتی سطح پر بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔ سروے کے مطابق ۴۲؍ فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذاتی سلامتی کو بھی خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہری نہ صرف ریاستی سلامتی بلکہ روزمرہ زندگی میں تحفظ کے حوالے سے بھی فکرمند ہیں۔ تاہم ان خدشات کے ساتھ ساتھ یورپی یونین پر اعتماد کی ایک سطح بھی موجود ہے۔ ۵۲؍ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ سلامتی اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے یورپی یونین پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ اعتماد خاص طور پر چند ممالک میں زیادہ نمایاں رہا۔ لکسمبرگ میں ۷۶؍ فیصد، پرتگال میں ۷۴؍ فیصد، یونانی قبرصی انتظامیہ میں ۷۳؍ فیصد اور لتھوانیا میں ۷۱؍ فیصد شہریوں نے یورپی یونین پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی سطح پر مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کو کئی ممالک میں مثبت نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے صدر ٹرمپ نے سابق صدر بارک اوبامہ کے اہم فیصلے کو منسوخ کر دیا

دفاعی اخراجات کے حوالے سے بھی عوامی حمایت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ تقریباً ۷۴؍ فیصد جواب دہندگان نے یا تو دفاع میں یورپی یونین کی موجودہ سرمایہ کاری کو مناسب قرار دیا یا اس میں اضافے کی حمایت کی۔ بعض ممالک میں یہ حمایت مزید زیادہ رہی۔ پرتگال میں ۸۹؍ فیصد، فن لینڈ میں ۸۳؍ فیصد، لتھوانیا اور اسپین میں ۸۰؍ فیصد جبکہ ڈنمارک میں ۷۸؍ فیصد افراد نے دفاعی اخراجات بڑھانے یا برقرار رکھنے کی تائید کی۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یورپی شہری دفاعی تیاری اور سیکوریٹی کو ترجیحی مسئلہ سمجھ رہے ہیں۔ سروے میں یورپی یونین کی خلائی پالیسی کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ تقریباً ۵۳؍ فیصد جواب دہندگان نے سلامتی اور دفاع کو یورپی خلائی پالیسی کی اہم ترین ترجیح قرار دیا۔ اس کے بعد ۳۶؍ فیصد نے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کو جبکہ ۳۱؍ فیصد نے مسابقت اور یورپی صنعت کی ترقی کو اہم سمجھا۔ یہ رجحان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کو اب محض سائنسی یا معاشی نہیں بلکہ دفاعی اور اسٹریٹجک تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر سروے کے نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یورپی شہری موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں سلامتی کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ قومی خطرات کا بڑھتا ہوا احساس، دفاعی اخراجات کی حمایت اور یورپی یونین پر اعتماد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں اجتماعی دفاعی حکمتِ عملی کی ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں یورپی پالیسی سازوں کے لیے یہ اعداد و شمار رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں کہ عوام کس سمت میں اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK