Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم قرار دیا گیا

Updated: July 01, 2026, 11:32 AM IST | Geneva

۱۵؍ کروڑ آبادی خطرے میں، ڈبلیو ایچ او کے ذیلی ادارہ کا کہنا ہے کہ عالمی اوسط کے مقابلے میں دگنی رفتار سے گرمی بڑھ رہی ہے۔

Water fountains have been installed in public places in European countries. Photo: INN
یورپی ممالک میں عوامی مقامات پر پانی کے پھواروں کا انتظام کیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

یوروپ کو دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم قرار دے دیا گیا ، جس سے ۱۵؍ کروڑ افراد متاثر ہیں۔تفصیلات کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے یوروپ کو زمین کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم قرار دے دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ میں درجۂ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں بسنے والے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے حکام کا کہنا ہے کہ یوروپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کے باعث اس وقت تقریباً ۱۵؍ کروڑ افراد براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین صحت اور ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر کاربن گیسوں کے اخراج اور گلوبل وارمنگ پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے سالوں میں ہلاکتوں اور بیماریوں کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے پیدائشی شہریت ختم کرنے کے حکم نامے کو مسترد کردیا

گرمی نے امریکہ میں بھی خطرے کی گھنٹی بجادی

دوسری جانب یوروپ میں گرمی کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹنے کے بعد اب ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی شدید ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر سخت الرٹ اور وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ امریکہ کی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں رواں ہفتے درجہ حرارت۳۰؍ سے۴۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی ہے، جس کے ساتھ حبس کی شدت بھی زیادہ ہوگی۔ امریکی و یوروپی حکام نے شہریوں، بالخصوص بزرگوں، بچوں اور دل کے مریضوں کو بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، پانی کا استعمال بڑھانے اور ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ امریکہ بھی گرمی کی زد میں: دنیا کے مختلف خطوں میں شدید گرمی کی لہر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور یوروپ کے بعد امریکہ بھی زد میں آ گیا ہے۔ امریکی نیشنل ویدر سروس نے وسطی اور مشرقی ریاستوں میں درجۂ حرارت۳۸؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی یہ لہر کئی دن برقرار رہ سکتی ہے اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ حکام کے مطابق شدید گرمی امریکہ میں سب سے جان لیوا موسمی خطرات میں شمار ہوتی ہے، جبکہ مغربی امریکہ میں جنگلات میں آگ لگنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ واضح ہو کہ یوروپ میں جاری ہیٹ ویو کے باعث ایک ہفتے کے دوران۱۳۰۰؍ سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK